اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 161 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 161

161 نماز مغرب پڑھاتے تھے اور احباب اس درس میں جوق در جوق شامل ہوتے تھے۔میں بھی اور میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب اس میں شرکت کرتے تھے اور وہیں آپ سے ملاقات کا آغاز ہوا۔جو بعد میں تعلقات محبت میں تبدیل ہو گیا۔حضرت خلیفہ اول کو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے صاحبزادگان کے درس میں شامل ہونے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔حضور ان صاحبزادگان کو بلا کر از راہ محبت اپنے قریب بٹھا لیتے۔میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کو دینی باتوں کے سیکھنے کا بہت شوق تھا۔اس لئے آپ درس میں بہت باقاعدگی سے شامل ہوتے۔درس میں حاضرین کی تعداد خاصی ہوتی تھی۔جس کیلئے روشنی کے انتظام کی ضرورت تھی گیس لیمپ ان دنوں کمیاب جنس تھی اور قادیان میں شاید حضرت نواب صاحب کے گھر سے ہی میسر آسکتی تھی اس لئے روشنی مہیا کرنے کا انتظام میاں صاحب موصوف نے اپنے ذمہ لیا۔اور اس ذمہ داری کو نہایت خوش اسلوبی سے نباہا۔سرشام ہی آپ کے ساتھ گیس لیمپ کا آنا اور درسگاہ کا بقعہ نور بن جانا میرے لئے نا قابل فراموش منظر ہے۔آپ کے والد ماجد کو اس بات کا بے حد خیال تھا کہ آپ کے صاحبزادے مثالی زندگی بسر کریں اور ان سے ایسے لوگ ہی ملیں جو ان کے اخلاق و اطوار پر کسی رنگ کا نا خوشگوار اثر نہ ڈال سکیں۔اس امر کے مدنظر آپ نے اپنے بچوں کی نشست و برخاست کے ایسے ضوابط مرتب کئے کہ وہ اپنی کوٹھی کی چار دیواری میں محصور ہو کر رہ گئے اور ان کی تعلیمی ترقی پر نا موافق اثر پڑا۔چنانچہ بعض ہمدرد اصحاب کے توجہ دلانے پر کچھ ردو کر کے بعد آپ ان کو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کرانے میں رضامند ہو گئے۔اس کے بعد میاں صاحب کا طلباء سے میل جول بڑھا تو آپ کی خوبیاں نمایاں ہوئیں۔آپ کو فٹ بال کا کھیل پسند تھا۔ان دنوں مدرسہ کی روایات بہت شاندار تھیں۔اور ڈویژن بھر میں ہمارے مدرسہ کی کھیلوں کا سکہ مانا جاتا تھا۔کھلاڑیوں کو چاق و چوبند رکھنے کیلئے یو نیفارم کی تجویز ہوئی جو نیلی نکر اور سفید قمیص پر مشتمل تھے۔اس پر حضرت نواب صاحب کو اعتراض ہوا۔کہ نکر مناسب لباس نہیں کیونکہ اسلام نے مرد کے جسم کا جو حصہ ستر ٹھہرایا ہے۔وہ ٹکر سے پوری طرح ڈھانپا نہیں جا سکتا۔چنانچہ میاں صاحب نے اپنے لئے اپنے خرچ پر ایسی نکر تیار کروائی جو گھٹنوں سے نیچے تک پہنچتی تھی۔اس نکر کو پہن کر آپ کھیل کے میدان میں آتے۔گو اس طرح آپ کا لباس کچھ زیادہ چست معلوم نہ ہوتا تھا۔مگر آپ کو اس کی پرواہ نہ ہوتی۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے۔