اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 153 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 153

153 ہو۔ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ایک دفعہ کوئلہ منگوانے کیلئے ایک خطیر رقم آپ نے اپنے پاس سے ادا کر دی۔لیکن یہ آرڈر منسوخ کرانا پڑا اور رقم بھی جلد نہ مل سکی۔مجھے شدید خوف تھا کہ آپ بہت ناراض ہوں گے۔لیکن آپ نے خط لکھا کہ آپ نے کوشش کر لی۔اگر رقم نہیں ملی تو کوئی بات نہیں۔اس وقت آپ کی شدید علالت کے علاوہ آپ کو مالی پریشانی بھی لاحق تھی۔دیگر حصہ داروں کی وجہ سے فلور مل پر لگایا ہوا کچھ روپیہ ضائع ہوا اور ایک خطیر رقم متنازع ہوکر روک لی گئی۔انتظامیہ میں آپ کے شریک جو الیس پی ریٹائرڈ تھے انہوں نے ایسا مشورہ دیا جو معاہدہ کے خلاف اور کاروباری لحاظ سے بھی درست نہ تھا۔تو آپ نے شرکت سے انکار کر دیا۔ان صاحب نے اس بات کا مجھ سے ذکر کر کے یہ اعتراف کیا کہ آپ بہت با اصول، دیانتدار اور متقی ہیں۔نا جائز ذرائع سے کچھ بھی لینا نہیں چاہتے۔جب 1955ء میں سات آٹھ سال بعد آپ آخری بار نصرت آباد تشریف لائے تو ہم بہت سے افراد حیدر آباد دسندھ کے سٹیشن تک استقبال کیلئے گئے۔فضل بھمبر وسٹیشن سے نصرت آباد اسٹیٹ تک سڑک بنا کر دور و یہ جھنڈیاں لگا دی تھیں۔اور دور دراز سے آمدہ احباب۔۔۔۔۔دونوں طرف کھڑے تھے۔آپ نے یہ دیکھ کر مجھے فرمایا کہ تمہاری شرارت ہے۔اس کی کیا ضرورت تھی۔عرض کیا کہ احباب پر آپ کے جو احسانات ہیں اور ان کو آپ کی صحت اور آمد سے خوشی ہے۔اس کا اظہار ہے۔آپ کی آمد سے عجیب بابرکت ماحول پیدا ہو گیا۔آپ ہر ایک سے اس کے حالات دریافت کرتے۔اور دامے درمے سخنے مدد فرماتے۔جماعت کے تنظیمی و تربیتی امور کا آپ نے جائزہ لیا۔وصولی چنده ، نماز با جماعت، تعلیم و تدریس وغیرہ میں جہاں بھی کمی تھی اسے پورا کیا اور پوری نگرانی کی۔مجھے قائد کو مجلس خدام الاحمدیہ کے بارے میں توجہ دلائی۔چنانچہ بفضلہ تعالی اس سال دیہاتی مجالس میں ہماری مجلس اول قرار پائی۔اور جلسہ سالانہ پر سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے سند خوشنودی عطا فرمائی۔آپ بیٹھ کر نماز میں ادا کرتے اور بوجہ ضعف امام کے ساتھ رکوع وسجود نہ کر سکتے تھے۔ایک نوجوان نے ایک چٹھی کے ذریعہ امام الصلوۃ کی اتباع کے متعلق ارشاد نبوی کی طرف متوجہ کیا۔آپ نے جوا با تحریر فرمایا کہ میں بیمار ہوں اور امام سبک خرام۔میں اتباع کی مزید کوشش کروں گا۔ہم سب آپ کی نرم گفتاری اور وسعت قلبی پر حیران تھے۔کوئی اور امیر شخص ہوتا۔تو اعتراض پر ناراض ہوتا۔