اصحاب احمد (جلد 12) — Page 154
154 آپ لٹریچر کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے اور سلسلہ کیلئے بہت غیرت رکھتے تھے۔اور رات کو حضرت مسیح موعود کا منظوم کلام اور کلام محمود کی نظمیں بھی سنتے تھے۔وہاں بیت الخلاء زمین دوز تھی۔لیکن آپ کیلئے کموڈ تھا۔جسے ٹاہلی یا نبی سر روڈ ریلوے سٹیشن کا خاکروب روزانہ صاف کرتا۔لیکن کسی وجہ سے وہ دو تین دن نہ آسکا آپ نے کئی بار توجہ دلائی۔باوجود کوشش کے دوسری جگہ سے بھی نہ مل سکا اور آپ کی تکلیف کا احساس کر کے میں نے اور چوہدری محمد دین صاحب مینیجر نے باہر لے جا کر اسے صاف کر دیا۔اور آپ کو اطلاع کر دی آپ نے اصرار کر کے دریافت کیا اور معلوم ہونے پر فرمایا کہ آپ کا کام نہیں تھا۔جب عرض کیا کہ آپ واجب التعظیم بزرگ ہیں۔اپنے باپ کا کام کرنے سے عار نہیں ہونا چاہئے۔تو چندے سکوت کے بعد فرمایا لیکن تم سید ہو اس لئے قابل عزت ہو اور میں تمہاری عزت کرتا ہوں۔حسن تدبیر، نظم اوقات، مستعدی اور استقلال، کفایت شعاری اور سادگی آپ کی خاص صفات تھیں۔شام کی چائے عموماً با ہر بعض خاص احباب کے ہمراہ نوش فرماتے۔چینی راشن ہونے کی وجہ سے کمیاب تھی۔اس لئے احباب کو یہ بتاتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ایک ایک چمچہ ہر پیالی میں ڈالتے اور جب دیکھتے کہ میں چائے نہیں پی رہا۔تو یہ فرماتے ہوئے کہ یہ زیادہ چینی پینے کے عادی ہیں اس لئے بطور سپیشل کیس کے ایک چمچہ زیادہ دیتا ہوں مزید چینی عطا فرماتے۔لباس میں سادگی اور وضعداری قائم رکھتے۔قمیص اکثر پکے رنگ کی دھاریدار یا چیک ڈیزائن ہوتی بیماری میں شلوار کی بجائے کھلے پائینچوں والا پاجامہ پہنتے تھے۔اچکن صوفیانہ رنگ کی ہوتی۔بیماری میں جو پار چات استعمال نہیں کر سکتے تھے۔وہ لوگوں میں تقسیم کرتے رہتے تھے۔آپ نے چوہدری محمد دین صاحب مینیجر کو ایک برجس عنایت فرمائی۔جو انہوں نے گھوڑے پر دورہ کیلئے جاتے ہوئے پہنی اور خوشی اور فخر محسوس کیا۔اس کے بعد حضرت ممدوح نے مجھے بلایا اور حیران ہوئے کہ میں مغموم کیوں ہوں۔اور بہت کرید کر معلوم کیا کہ مجھے یہ افسوس ہے کہ اس وقت تک تمام لوگوں پر یہ اثر ہے کہ میں آپ کا خاص آدمی ہوں اور خاص طور پر مورد الطاف۔آپ نے چوہدری صاحب کو برجس دی۔اس سے لوگوں کا تاثر ختم ہو جائے گا۔نہس کر فرمایا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں اس لئے برجس ان کو دی ہے میں آپ کو سلکی اچکن دے دوں گا۔میں نے کہا کہ نہ معلوم کب عطا کریں گے۔تو اسی وقت یہ نہایت نفیس اچکن جو شملہ سے سلوائی تھی، عنایت فرمائی اور اسی وقت پہنے کو فرمایا۔اور پھر دیر تک