اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 125 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 125

125 کے ساتھ رشتہ داری کی وجہ سے جوں جوں ان اقارب کو حضرت اقدس اور حضور کی اولا د کو قریب ہو کر دیکھنے کا موقعہ ملا۔ان کے ابتدائی خیالات میں تبدیلی واقع ہوتی گئی اور اب تو ان میں سے اکثریت کو یہ احساس ہے کہ اس قرابت سے آپ نے کچھ حاصل کیا ہے گنوایا کچھ نہیں۔جذبات تشکر و امتنان سے آپ کا دل لبریز تھا۔فرماتے تھے: کہ میں اپنی زوجہ محترمہ کو آيَةً مِنُ آیاتِ اللهِ سمجھتا ہوں اور حضور کی صاحبزادی میرے گھر میں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے افضال و برکات سے نوازا ہے۔میں نے حتی الامکان ان کی کسی خواہش کو کبھی بھی رد نہیں کیا۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔آپ کی باتوں سے ایمان کو تازگی حاصل ہوتی۔سلسلہ کے متعلق بہت غیور تھے۔جن لوگوں کو سلسلہ میں شمولیت سے بہت فوائد پہنچے لیکن جب انہیں نا واجب امور اور نظام سلسلہ کی خلاف ورزی سے احتراز کرنے کو کہا گیا اور وہ بگڑ بیٹھے تو آپ ایسے افراد کے ذکر پر فرماتے کہ یہ نمک حرام ہیں اور میں ان سے منہ لگانا برداشت نہیں کر سکتا۔حیات طیبہ کی تالیف پر بہت خوش ہوئے اور آپ نے دونوں ایڈیشنوں کی متعدد جلدیں خریدیں۔آپ کے ایک نو جوان بچہ نے مال روڈ پر جاتے ہوئے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا کہ آپ کی اس کتاب کی جلدیں والد صاحب محترم نے تمام افراد خانہ کی چار پائیوں کے سرہانے رکھوادی ہیں تا کہ جب بھی ہمیں موقع ملے ہم اس کا مطالعہ کریں۔آپ عند الملاقات ہمیشہ کھانا کھانے پر مجبور کرتے۔جب میں آخری بار ملاقات کے بعد روانہ ہونے لگا تو فرمایا کہ ہمارے گھر کے بچے وغیرہ پام ویو جارہے ہیں اور ڈرائیور کو ہدایت کی کہ مجھے دہلی دروازہ اتار دے۔پھر پام و یو کوٹھی جائے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ 11۔مؤلف کے تاثرات آپ کے مناقب کا ہر گوشہ احباب کے تاثرات سے بے نقاب ہو جائے گا تاہم کچھ اپنے ذاتی مشاہدات بھی عرض کرتا ہوں۔مجھے 1928ء سے دار الفضل میں قیام کا موقع ملا۔اس وقت مسجد دار الفضل تعمیر نہیں ہوئی تھی اور اس محلہ کے احباب مسجد نور میں ہی نمازیں ادا کرتے تھے۔اس وقت آپ تینتیس سال کے جوان