اصحاب احمد (جلد 12) — Page 124
124 دریافت کر کے کہا کہ فلاں کام کیلئے دعا کریں میں دو صد روپیہ بھجوا ؤں گا۔چنانچہ چند دن میں بھجوا دیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سفر سندھ میں آپ نے مجھے باصرار اپنی کوٹھی میں ٹھہرایا۔10- تاثرات شیخ عبد القادر صاحب اخویم شیخ عبد القادر صاحب فاضل مربی لاہور ( مولف حیات طیبہ، حیات نو روحیات بشیر ) رقم فرماتے ہیں:۔حضرت مرحوم کو زیادہ قریب سے مجھے دیکھنے کا موقع 1936 ء سے ملا۔سندھ سے آپ کراچی تشریف لاتے تھے۔وہاں بحیثیت مبلغ سلسلہ میں مقیم تھا۔گو آپ ٹھہر تے رائل ہوٹل میں تھے۔لیکن سیر کیلئے قریباً روزانہ مجھے ساتھ لے کر جاتے تھے۔ہم شہر سے پیدل صدر جاتے۔بعض اوقات محترم حاجی عبد الکریم صاحب کے گھر بھی تشریف لے جاتے۔جن سے آپ کو بہت انس تھا۔آپ کو دعاؤں میں بہت شغف تھا اس لئے مل کر دعائیں کیا کرتے تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی دامادی کا شرف حاصل تھا۔لیکن ایک لمحہ کیلئے بھی کبھی آپ حضور کے خاندان سے برابری کا خیال دل میں نہ لاتے تھے۔حالانکہ آپ ایک نوابی خاندان کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔آپ بیان کرتے کہ آپ کے خاندان کے لوگ جو سلسلہ میں داخل نہیں شروع میں یہ سمجھتے تھے کہ والد ماجد نے حضور کے خاندان سے رشتہ داری کا تعلق قائم کر کے اپنے دنیوی و قار کو صدمہ پہنچایا ہے۔لیکن حضرت نواب صاحب کو تو چونکہ روحانی بصیرت حاصل تھی اس لئے آپ انہیں سمجھایا کرتے تھے کہ تم بتاؤ اگر آج رسول اللہ ﷺ زندہ ہوں اور تمہیں حضور کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق قائم کرنے کا موقع ملے تو تم اپنے دنیوی وقار کو مدنظر رکھ کر حضور کے ساتھ تعلق قرابت قائم کرنے کو نا پسند کرو گے۔ظاہر ہے کہ یہ سوال ایسا نہیں تھا۔جس کے جواب میں وہ یہ کہہ سکتے کہ ہم حضور سے ہرگز رشتہ داری کا تعلق قائم نہ کرتے بلکہ ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ہم حضور کے ساتھ تعلق قائم کرنے کو سعادت عظمی سمجھتے۔اس پر آپ فورا فر ماتے کہ ہمارے نزدیک اس وقت روئے زمین پر رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی مبارک وجود ہے تو وہ حضرت مرزا صاحب ہیں۔پس ہم آپ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کو کیوں سعادت عظمی نہ سمجھیں۔بعد میں حضرت نواب صاحب