اصحاب احمد (جلد 12) — Page 126
126 تھے۔1947 ء تک گویا میں سال تک اور آپ کے وصال تک گو یا چونتیس سال مجھے آپ کو دیکھنے کا موقع ملا۔1937ء میں از راہ ذرہ نوازی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری مقرر فرمایا۔جلد خاکسار جوائنٹ پرائیویٹ سیکرٹری اور 1938ء میں پرائیویٹ سیکرٹری مقرر ہوا۔چار سال تک سفر و حضر میں خاندان حضرت مسیح موعود سے گہرا رابطہ رہا۔میں نے حضرت میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب میں کبر و افتخار کی بجائے بے تکلفی اور انکسار ہی دیکھا۔وقار کے خلاف کوئی بات نہیں پائی۔فخر الدین ملتانی اپنی بدعملی سے جماعت سے خارج ہوا۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور وہ غالباً ہم جماعت رہ چکے تھے۔اس وجہ سے ذاتی مراسم رکھتے تھے۔آپ اسے سمجھانے کیلئے آئے۔انہوں نے اسے چٹھی بھجوائی تھی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سید صاحب کے پاس بھجوایا۔تاچٹھی لے کر فخر الدین کو دوں اور جواب لاؤں۔اس شقی ازلی نے اپنی ایک خواب کی بناء پر پہلے تو معافی مانگ لی۔لیکن اگلے ہی روز تو بہ سے انحراف کر کے شقاوت کا ہمیشہ کیلئے شکار ہو گیا۔سید صاحب اس وقت دار الحمد میں آپ کے پاس تھے۔شدید گرمی کا موسم تھا۔خاکسار حاضر ہوا تو آپ نے فورا ٹھنڈے مشروب سے میری تواضع کی۔حضور سال میں دو بار سندھ کی اراضی کے معائنہ کیلئے تشریف لے جاتے تھے اور خاکسار کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں کارکن ہونے کے وقت حضور کی خدمت میں رہنے کا موقعہ ملا۔اردگرد کے احمدی احباب اپنی شکایات لے کر پہنچتے۔لیکن مرحوم کے حسن انتظام اور فیاضانہ سلوک کے متعلق احباب کو رطب اللسان پایا۔آپ کی خواہش پر 1945ء میں خاکسار نے آپ کی صاحبزادی کو ایک ڈیڑھ ماہ پڑھایا آخری روز بلا مطالبہ آپ کی طرف سے مجھے مناسب معاوضہ مل گیا۔آپ کے والد بزرگوار کی وفات پر جنازہ اٹھنے سے پہلے تعزیت کنندگان کی مجلس میں آپ نے ان کی سیرت کے متعلق بہت سے ایمان افزا واقعات سنائے۔جس سے میرے دل میں بشدت تحریک ہوئی کہ ان کے زریں سوانح قلمبند کروں۔چنانچہ چند دن کے اندر میں نے آپ سے عرض کیا با وجود یکہ میں نے مضمون نویسی یا تالیف کے میدان میں کبھی قدم نہیں رکھا تھا۔کہ آپ کیلئے یہ امر قابل توجہ ہوتا لیکن آپ نے بلا تامل میری درخواست قبول کر لی۔گویا حوصلہ افزائی فرمائی اور عصر کے بعد کا وقت مقرر کر دیا۔غالباً ان ایام میں بھی آپ نظارت علیا میں کام کر رہے تھے۔وقت مقررہ پر خاکسار حاضر ہوتا۔آپ دار السلام کے