اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 119 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 119

119 غالباً 8 فروری 1949 ء کو آپ کو یکدم دل کا سخت حملہ ہوا۔اس وقت آپ جو دھامل بلڈنگ سے رتن باغ کی طرف آرہے تھے اور ان دنوں آپ بحیثیت ناظر اعلیٰ کام کرتے تھے۔فوراً بے ہوشی طاری ہوگئی۔چند دوست اٹھا کر برآمدہ میں لے آئے۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور خاکسار موجود تھے۔ہم نے ٹیکے وغیرہ سے علاج کیا۔دیگر ڈاکٹروں کو بھی فوراً بلوا کر دکھایا گیا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد آپ کو ہوش آگیا۔یہ دورہ نہایت شدید اور طویل مرض کا آغاز تھا۔اس کے ابتدائی دوماہ کے قریب خاکسار کو قریباً چوبیس گھنٹے ہی آپ کی طبی خدمت کا موقع ملا۔اس قدر شدید علالت میں آپ کو بہت ہی صابر و شاکر پایا اور آپ کے منہ سے کبھی بے صبری کا کوئی کلمہ نہیں نکلا۔بیماری کا ابتدائی شدید دور گزرنے پر جب طبیعت ذرا سنبھلی تو اکثر آپ کی زبان سے شکر وحمد الہی کے کلمات ہی نکلتے۔اپریل 1949 ء میں خاکسار حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے تحت ربوہ ہجرت کر کے آ گیا۔مگر پھر بھی جب کبھی آپ کی بیماری کی تکلیف زیادہ ہوتی۔خاکسار لا ہور جاتا تو آپ بہت خوش ہوتے اور کچھ دن اپنے پاس ٹھہر نے کو فرماتے۔چنانچہ مرض کے آخری حملہ میں جب آپ کی حالت زیادہ خراب ہوگئی تو خاکسار جابہ سے رات کے وقت روانہ ہو کر تین بجے صبح لاہور پہنچا۔خاکسار کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر خوشی کا آثار پیدا ہوئے اور اگلے دن یہ اظہار بھی فرمایا۔کہ اچھا ہوا میاں منور احمد آگئے اور یہ بھی فرمایا کہ ابھی واپس نہ جانا۔چنانچہ خاکسار نے تسلی دی کہ جب تک آپ کی طبیعت سنبھل نہیں جاتی۔خاکسار نہیں جائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور ہی تھی۔اور اگلی رات پھر طبیعت یکدم بگڑ گئی اور کچھ گھنٹے بعد ہمارے پھوپھا جان ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے۔7۔تاثرات صوفی غلام محمد صاحب اخویم صوفی غلام محمد صاحب ( ناظر بیت المال ربوہ ) بیان کرتے ہیں کہ مرحوم ہرا ہم امر میں استخارہ کرواتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ مجھ سے بھی بغیر بات بتائے استخارہ کروایا تھا اور اس کے متعلق خواب سے خوش ہوئے تھے۔مسجد نور میں جن دنوں میں امام الصلوۃ تھا۔ایک روز بیمار تھا۔تو آپ میری عیادت کو تشریف لائے اپریل 1923 ء میں جب مجھے پہلی بار علاقہ ملکانہ میں بھجوایا گیا۔تو آپ نے بحیثیت انچارج انسداد ارتداد مجھے حالات بتائے اور ہدایات دیں۔جب بیرون قصبہ (دار العلوم ) میں آپ ناظم جلسہ سالانہ مقرر ہوتے تھے۔تو آپ محبت سے احکام دیتے۔اور صفائی کا