اصحاب احمد (جلد 12) — Page 118
118 بڑا جانتے تھے۔اور آں سیدہ کی دعاؤں کی قبولیت کے بہت قائل تھے اور آں سیدھا کی خدمت کو باعث صدفخر جانتے تھے۔آپ شفیق باپ، وفادار اور شفیق دوست اور غریبوں کے طلبا و ماویٰ تھے۔کسی کو ناراض دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔آپ کے حسن سلوک کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ کے اہل بیت نے آپ کی تیمار داری میں گزشتہ دس سال میں اپنی جان گھلا دی۔(الفضل 21 ستمبر 1961ء) 5۔تاثرات پرویز پروازی صاحب اخویم پرویز پروازی صاحب ایم اے ربوہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سال قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔تعارف پر دوبارہ ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ تم تو عزیز ہو اور تایا جان محمد خاں صاحب کے متعلق دریافت فرمایا۔فرمایا خط لکھو تو میری طرف سے کہنا کہ ملے ہوئے بہت دیر ہوگئی۔کچھ عرصہ کیلئے میرے پاس آجا ئیں۔مجھے بہت مسرت ہوگی۔تایا جان آپ سے پیشن پاتے ہیں وہ اور میرے دادا جان مدت مدید تک خدمت گزاروں میں شامل رہے ہیں۔میں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کا صدر تھا۔میں نے عرض کیا کہ ایک غریب احمدی لڑکے کیلئے رہنے کی جگہ مطلوب ہے آپ نے بخوشی اپنی کوٹھی کا ایک کمرہ مختص فرما دیا اور وقتا فوقتاً اس کی امداد بھی فرماتے اور مفت کھانا بھی مرحمت فرماتے رہے۔(الفضل 5 دسمبر 1961ء) -6۔بیان ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ابن سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ رقم فرماتے ہیں۔بچپن سے آپ کے متعلق میرا تاثر یہ ہے کہ ہم خاندان حضرت مسیح موعود کے بچوں کو باوجود عمر اور رشتہ میں چھوٹا ہونے کے ہمیشہ بہت ادب سے پکارتے تھے اور بہت ہی محبت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اسی طرح سلوک کرتے تھے۔نیز ان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ہم لوگ اپنے اخلاق اور اعمال میں ایک نمونہ ہوں اور خلاف شرع یا اخلاق کوئی بات ہم سے سرزد نہ ہو۔چنانچہ کوئی ناپسندیدہ بات آپ دیکھ پاتے تو بلا جھجک فورا ٹوک دیتے اور اظہار فرماتے کہ یہ بات ہمیں زیب نہیں دیتی۔آپ کا یہ عمل حضرت مسیح موعود سے شدید محبت کے باعث تھا اور اسی وجہ سے آپ اپنے اہل بیت ہماری چھوٹی پھوپھی جان کا اتنا احترام کرتے تھے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔