اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 116 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 116

116 کرتے رہنا۔کیونکہ اس سے بڑی مصیبت اور کوئی نہیں کہ ایک شخص کی محنت آبیاری کی کمی سے برباد ہو جائے۔مومن کا انجام بخیر ہوتا ہے اور اسے اس کیلئے خود بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین والسلام 25 جون 1923ء مرز امحمود احمد جی فی اللہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حضرت خلیفہ اسیح والمہدی علیہ الصلوۃ والسلام نے انسداد ارتداد میں آپ کی خدمات کو جو قبولیت کی عزت بخشی ہے وہ آپ کیلئے قابل مبارکباد ہے۔اور مجھ کو خاص طور پر خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ماتحتی میں کام کرنے والی جماعت کو یہ عزت عطا کی۔میں خوشی کے ساتھ آپ کو یہ سند خوشنودی دیتا ہوں۔آپ ہمیشہ اپنی زندگی میں سلسلہ کی خدمت کیلئے تیار رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین 30 جون محمد عبداللہ خاں (الفضل 28 نومبر 1961ء) آپ کے صاحبزادہ شیخ مبارک احمد صاحب ( نائب ناظر اصلاح وارشاد ربوہ ) والد صاحب محترم کی زبانی بیان کرتے ہیں۔کہ افراد جماعت کی چنیوٹ اور احمدنگر ( ضلع جھنگ ) میں آباد کاری وغیرہ کے تعلق میں مجھے کافی عرصہ تک باہر ٹھہر نا پڑا۔اور بہت تکلیف برداشت کر کے میں نے یہ کام سرانجام دیا۔واپس لاہور جو دھامل بلڈنگ کے پاس پہنچا ہی تھا کہ حضرت مرحوم کو علم ہو گیا اسی وقت دفتر سے اٹھ کر خوشی خوشی باہر تشریف لائے اور لمبا معانقہ کیا۔آپ کا برادرانہ اور مشفقانہ سلوک آپ کے بے نظیر اخلاق کا مظہر ہے۔آپ تکلف سے کوسوں دور تھے۔اپنے احباب سے قبولیت دعا کے واقعات بیان کرتے تھے تا از دیا دایمان کا موجب ہوں۔3:۔بیان صوفی محمد رفیع صاحب مکرم صوفی محمد رفیع صاحب ( ریٹائرڈ ڈی ایس پی امیر جماعت سکھر ڈویژن) بیان کرتے ہیں۔کہ آپ کو قریب سے جاننے کا موقع بوجہ سندھ میں ملازم ہونے کے ملا۔مرحوم کی سندھ میں زمین تھی۔اس لئے ملاقات کے مواقع گاہے گاہے ملتے رہے اور بعد میں تو آپ کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے زیادہ تعلق ہو گیا چنانچہ کبھی خاکسار کو کوئی کام بذریعہ خط بھی تحریر فرما دیتے۔مجھے جب لاہور جانے کا موقع ملتا۔تو حضرت مرحوم کو ملنے کی ضرور کوشش کرتا اور اگر کبھی اتفاق سے اپنی موٹر پر