اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 117 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 117

117 جاتے ہوئے مجھے دیکھ لیتے تو موٹر ٹھہرا کر ضرور ملاقات کا شرف بخشتے اور مکان پر آنے کی خاص تاکید فرماتے۔چنانچہ جب میں حاضر ہوتا تو فرماتے کہ تکلف کرنے کی ضرورت نہیں۔جب لاہور آئیں ضرور ملیں۔بعض دفعہ سندھ کی اراضیات کے متعلق مشورہ بھی طلب فرما لیتے اور اگر کوئی خاص بات ہوتی تو بعض دفعہ فرما دیتے۔کہ فلاں کے ساتھ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ حتی الوسع تقویٰ کے ہر پہلو پر نگاہ رکھتے۔جب درمیان میں لمبے عرصہ کیلئے آپ کو بیماری کی تکلیف رہی اور اس دوران میں مجھے لا ہور جانے کا موقعہ ملتا تو میں آپ کی تیمارداری کیلئے حاضر ہوتا تو بڑی محبت سے پاس بٹھا کر بات بات میں دعا کیلئے تا کید فرماتے۔آخر میں مرض الموت میں جو میرے خط کا جواب آپ نے ماہ ستمبر میں ارسال فرمایا۔اس میں لکھا :۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مکرمی اخویم صوفی صاحب! آپ کا خط میری طبیعت پوچھنے کے بارہ میں ملا۔جزاکم اللہ میں تو بیمار ہوں یہ خط آپ کو لکھ رہا ہوں۔میری طبیعت ابھی بدستور خراب ہے۔کمزوری بہت زیادہ ہے بخار بھی تقریباً روز ہو جاتا ہے۔دل میں بھی ڈاکٹر کمزوری زیادہ بتاتے ہیں۔آپ میرے لئے خاص دعا فرماتے رہیں۔اور مکرم عبد الرحمن صاحب کو بھی میرا سلام دیں۔اور دعا کیلئے کہہ دیں اللہ تعالیٰ آپ سب کا محافظ و ناصر ہو۔والسلام عبداللہ خاں اس خط سے آپ کے عظیم الشان اخلاق کا اظہار ہوتا ہے۔(الفضل 28 نومبر 1961ء) 4:۔تاثرات ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب رقم فرماتے ہیں۔کہ آپ کی وفات ایک بزرگ ہستی کی وفات ہے جس کے ذرہ ذرہ میں احمدیت سمائی ہوئی تھی۔آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے پر ہونے والے قسما قسم کے احسانوں اور فضلوں پر ہر آن شکر گزار رہنے والے بزرگ تھے۔باوجود یکہ آپ نواب زادہ تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کو اس قدر رنعمت عظمی جانتے تھے کہ اس کے مقابل پر اپنی ہستی کو ادنی ہستی تصور کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تو عشق تھا ہی لیکن حضرت ام المومنین کے مرتبہ کو بھی بہت