اصحاب احمد (جلد 12) — Page 103
103 دوستوں اور افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دعا کریں جتنی عمر اللہ تعالیٰ دے وہ فعال زندگی ہو۔نافع ، مفید زندگی ہو۔میں بے بس ہوں۔بیکس ہو کر دوسروں کے ہاتھوں میں نہ پڑ جاؤں۔میری بیوی حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے بے مثال نمونہ میری خدمت کا میری پچھلی بیماری میں پیش کیا تھا۔اس خدمت اور محنت سے ان کے اعصاب پر بہت برا اثر پڑا ہے۔اللہ تعالیٰ اب ان کولمبی تیمارداری سے بچائے اور مجھے ایسی صحت اور عمر دے کہ ان پر میں کسی قسم کا بار نہ بنوں۔میرا خاتمہ بالخیر ہو۔اولا د ایسی چھوڑ کر جاؤں جو احمدیت کی سچی خادم اور اللہ تعالیٰ کی رضا لئے ہوئے ہو۔بعض ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بھی مجھ پر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کما حقہ ادائیگی کی توفیق دے۔بس بزرگان سلسلہ اور صحابہ کرام اور درویشان قادیان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی خاص دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں۔فَجَزَاهُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء“۔(الفضل 10 اگست 1961ء) 0 تدفین ربوہ میں حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین“۔نماز جنازہ میں ربوہ اور دور ونزدیک کے دیگر مقامات سے آئے ہوئے ہزار ہا احمدی احباب کی شرکت۔اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے نماز جنازہ پڑھائی۔کے عنوانات کے تحت الفضل میں مرقوم ہے۔ربوہ 19 ستمبر ( بوقت پونے نو بجے صبح ) قبل ازیں اطلاع شائع ہو چکی ہے کہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کل مورخہ 18 ستمبر 1961ء بروز دوشنبہ بوقت ساڑھے آٹھ بجے صبح پام ویو نمبر 5 ڈیوس روڈ لاہور میں بعمر 66 سال وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔آپ کا جنازہ اسی روز شام کو مائیکر وایمبولینس کار کے ذریعہ ربوہ لایا گیا۔19 ستمبر کو ساڑھے آٹھ بجے صبح مقبرہ بہشتی کے وسیع احاطہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔جنازہ میں شرکت کیلئے ربوہ کے علاوہ ملتان، جھنگ، سیالکوٹ ، لاہور، سرگودھا، جڑانوالہ، چنیوٹ اور متعدد دیگر مقامات کے احباب بھی کثیر تعداد میں آئے ہوئے تھے۔جنازہ اٹھانے سے قبل ہزار ہا احباب سترہ روز کے حالات کی اطلاعات بذریعہ فون ربوہ موصول ہوتی رہیں۔اور احباب کو بذریعہ الفضل (ملاحظہ ہو الفضل یکم تا 17 ستمبر 1961ء) اطلاع ملتی رہی۔