اصحاب احمد (جلد 12) — Page 102
102 Fibrilations کہتے ہیں پیدا ہوگئی ہے۔جس کی وجہ سے نبض خراب رہتی ہے۔میں ڈاکٹر محمد یوسف صاحب ایم ڈی کے زیر علاج ہوں ان کا فرمانا ہے کہ اوائل بیماری میں یہ تکلیف پیدا ہوئی تھی۔لیکن پھر جاتی رہی تھی اور اب پھر قلبی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔اس کا علاج انہوں نے دعا بتایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے پاس علاج کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ سے رحمت کے ہی امیدوار ہیں۔اس کے علاوہ ان کو علم ہے کہ میری پچھلی بیماری میں مجھے بزرگان سلسلہ اور احباب کرام کی دعاؤں سے ہی شفا ہوئی تھی۔ورنہ ظاہری اسباب میرے بچنے کے کوئی نہ تھے۔اس لئے بھی علاج کے ساتھ انہوں نے دعاؤں پر زور دیا۔بہر حال ڈیڑھ ماہ سے صاحب فراش ہوں۔حالت بدستور ایک جیسی چلی جاتی ہے۔کمزوری بڑھ گئی ہے۔طبیعت کی بشاشت جاتی رہی ہے۔اب مجھ سے بعض دوستوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں اپنا حال اخبار الفضل میں دوں تا کہ حالت کا علم ہونے پر وہ دوست جو مجھ سے محبت کا تعلق رکھتے ہیں دعا کرسکیں۔اور اللہ تعالیٰ پہلے کی طرح اپنا رحم و کرم فرما دے اور صحت دے۔چار پانچ سال کا عرصہ ہوا ہے جبکہ میں کافی بیمار تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ تمہاری عمر 66 سال کی ہوگی۔کچھ فاصلہ پر حضرت والد صاحب نواب محمد علی صاحب مرحوم کھڑے ہیں۔وہ مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا کہتا ہے۔میں نے عرض کی کہ کہتا ہے کہ میری عمر 66 سال کی ہوگی۔اس پر آپ فرماتے ہیں۔ہاں ہاں 66 سال کی تو ہو ہی جائے گی۔لہجہ اس قسم کا جس سے مترشح ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ 66 سال سے کچھ زائد بھی ہو جائے۔بہر حال اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے۔میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے تھے۔انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کی عمر 45 سال کی ہوگی۔وہ روتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے کہ حضور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور میں نے یہ خواب دیکھا ہے۔حضور نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔میاں فضل محمد اللہ تعالی اس پر بھی قادر ہے کہ 45 کی بجائے تمہاری عمر اللہ تعالیٰ نوے سال کر دے۔چنانچہ انہوں نے 90 سال کی عمر پائی۔مومن کی دعا تقدیر میں بدل دیتی ہے۔اس لئے مایوس ہونے والی کوئی بات نہیں۔لیکن جوں جوں 66 سال کے قریب میری عمر پہنچ رہی ہے۔بیماری کا زور بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہ امر قابل تشویش ہے۔اس وقت میری عمر 65 سال 7 ماہ ہے۔اس لئے اپنے خاص محبت رکھنے والے