اصحاب احمد (جلد 12) — Page 104
104 کو چہرہ دیکھنے کی اجازت دی گئی۔نماز جنازہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے پڑھائی۔اس وقت جبکہ صبح کے پونے نو بجے ہیں۔بہشتی مقبرہ کی چار دیواری میں جہاں حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کا مزار مقدس ہے تدفین عمل میں آ رہی ہے۔حضرت نواب صاحب مرحوم کی طبیعت 17 اور 18 ستمبر کی درمیانی رات کو پھر بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔چنانچہ اطلاع موصول ہونے پر 18 ستمبر کو علی الصبح حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ حرم سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ نخلہ سے نیز حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ معہ بیگم صاحبہ محترمه محترم نواب محمد احمد خان صاحب، محترم نواب مسعود احمد خان صاحب، محترمہ بیگم صاحبہ محترم مرزا ناصر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض دیگر افراد موٹر کاروں کے ذریعہ لاہور روانہ ہو گئے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب مدظلہ العالی، محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب، محترم کرنل مرزا داؤ د احمد صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا احمید احمد صاحب، نواب زادہ میاں عباس احمد خان صاحب اور متعدد دیگر افراد خاندان پہلے سے لاہور میں تھے۔اڑھائی بجے کے بعد پہلے پام ویو نمبر 5 ڈیوس روڈ لاہور میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔جو مکرم میاں محمد یوسف صاحب نائب امیر جماعت احمد یہ لاہور نے پڑھائی۔نماز جنازہ میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے افراد کے علاوہ جماعت احمد یہ لاہور کے پانچ صد کے قریب احباب نے شرکت کی۔پونے چار بجے سہ پہر کے قریب جنازہ مائیکرو ایمبولینس کار کے ذریعہ لاہور سے ربوہ کیلئے روانہ ہوا۔جنازہ کے ہمراہ موٹر کاروں میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے، مکرم شیخ نصیر الحق صاحب، مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب ریٹائر ڈ ڈائر یکٹر آف سپلائی اور جماعت احمد یہ لاہور کے بعض دیگر احباب بھی ربوہ آئے۔حضرت نواب صاحب مرحوم کی وفات کی اطلاع موصول ہونے پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی 18 ستمبر کو ہی موٹر کار کے ذریعہ نخلہ سے عصر کے وقت ربوہ تشریف لے آئے تھے۔نماز مغرب ادا کرنے کے معا بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد اور اہل ربوہ کثیر تعداد میں جنازہ کے انتظار میں لاریوں کے اڈہ پر آجمع ہوئے۔سات بجے شام جنازہ ربوہ پہنچا جنازہ کو حضرت نواب