اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 166 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 166

166 ظاہر ہے کہ آپ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کیسی خوش اسلوبی سے کرتے اور اس میں کیسی لذت محسوس کرتے تھے۔اللَّهُمَّ اَدْخِلُهُ فِي جَنَّتِ النَّعِيمِ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی کا دامن وسیع تھا۔مہمان کو نہایت بشاشت سے ملتے۔ہر رنگ میں اکرام ضیف کا خیال رکھتے۔بعض اوقات کوئی مہمان مہینوں آپ کے پاس مقیم رہتا۔لیکن آپ کی طرف سے اکرام میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔تقسیم برصغیر کے وقت میں ابھی قادیان میں تھا اور آپ ہجرت کر کے رتن باغ لاہور میں مقیم ہو چکے تھے۔ایک فوجی دوست کے خاندان کے ہمراہ ان کی جیپ میں مجھے دوسری بیوی کے دو بچوں کو بھجوانے کا موقعہ ملا۔( پہلی بیوی سے اولاد نہ ہونے کے باعث مجھے دوسری شادی کرنی پڑی ) میں نے آپ کے نام ایک رقعہ میں عرض کیا کہ ان بچوں کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔وہ زمانہ نہایت نازک تھا۔اس افراتفری میں عزیز سے عزیز رشتہ دار بھی بوجھ برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوتے تھے۔خاکسار اہل و عیال سمیت لاہور پہنچا تو بچوں نے سنایا کہ میرا رقعہ پڑھ کر آپ نے ہمیں محبت کی نگاہ سے دیکھا۔شربت پلایا اور ہر طرح سے تسلی دی اور پھر ایک خادم کے ساتھ اپنے اہل بیت کے پاس یہ لکھ کر بھجوادیا۔کہ یہ بچے قادیان سے ہمارے ہاں مہمان آئے ہیں۔حضرت بیگم صاحبہ رقعہ پڑھ کر ہم سے نہایت شفقت سے پیش آئیں اور ہمارے ساتھ اپنے بچوں کا سا سلوک کرتیں اور اپنے ہمراہ اسی دستر خوان پر کھانا کھلاتیں اور عصر کے وقت روزانہ اپنے بچوں کو جیب خرچ کیلئے کچھ رقم دیتیں تو اتنی اتنی رقم ہم دونوں کو بھی عنایت فرماتی تھیں۔ایک دفعہ میں آپ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور انہوں نے اپنی ایک ضرورت کا ذکر کیا۔آپ کے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ اتنی رقم سے اس کی حاجت روائی ہو سکتی ہے آپ نے اس سے دگنی رقم کا چیک اسے دے دیا۔ایسی حاجت روائیوں کے باعث افضال الہی کی بارشیں بھی آپ پر برستی رہتی تھیں۔آپ اپنے احباب کو قیمتی ہدایا اور عطایا سے نوازتے رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے مجھے رتن باغ میں بلوایا اور فرمایا کہ میں نے ایک گرم کوٹ سلوایا ہے لیکن وہ مجھے قدرے تنگ ہے آپ پہن کر دیکھیں۔میرے جسم پر وہ پورا اترا تو فرمایا کہ آپ اسے پہنا کریں میں اور سلوالوں گا۔1944ء میں جلسہ اعلان مصلح موعود کے موقعہ پر ایک صحابی نے آپ کی دعوت کی۔آپ نے