اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 167 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 167

167 قدیمی تعلقات کی بناء پر دعوت قبول فرمائی۔خاکسار بھی مدعو تھا۔مہمان نواز نے نہایت اخلاص لیکن اپنی استطاعت سے بڑھ کر پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا۔بعد فراغت واپسی کے وقت آپ نے انہیں ایک معقول رقم عنایت فرمائی۔اس طرح ان کی دلداری بھی ہوئی اور انہیں زمیر بار بھی نہ ہونا پڑا۔آپ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھتے تھے۔اور اَكْرِ مُوا أَوْلَادَكُمْ کے نبوی فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ تعلیم و تربیت میں نصیحت و حکمت اور محبت پدرانہ کو خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے۔مجھے آپ کے اکثر صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کا استاد ہونے کا فخر حاصل ہے۔میں انہیں دینیات اور عربی کے مضامین پڑھا تا تھا۔آپ تا کید فرماتے کہ ان کی تعلیم میں نرمی اور حلم سے کام لوں۔اور جس مقام میں اسلامی تعلیم اور دیگر مذاہب کے درمیان تقابل کا موقع ہو تو وہاں اسلامی تعلیم کے تفوق اور افضلیت کو بچوں پر اچھی طرح واضح کیا جائے تا یہ امر پوری طرح ذہن نشین ہو جائے۔بعض اوقات آپ خود بھی پاس تشریف رکھتے اور سنتے اور کوئی امر قابل وضاحت ہوتا۔تو خود بھی اس کی وضاحت فرماتے۔آپ سستی اور بیکاری سے بہت نفور تھے۔اور اکتساب رزق حلال کیلئے مستعد و کوشاں۔باوجود ایک معزز اور رئیس خاندان کے چشم و چراغ ہونے اور عہد طفولیت سے ناز و نعمت میں پروردہ ہونے کے اہل وعیال کی ذمہ داری پڑنے پر محنت و مشقت کی برداشت کا ایک قومی جذ بہ آپ میں پیدا ہو گیا تھا۔الصَّلوة مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ کے مطابق میں نے نواب صاحب محترم کو اقامت الصلوۃ اور ادائے عبادات میں ایک قلبی مسرت محسوس کرتے دیکھا۔سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ کے مطابق کثرت سجود کے باعث نواب صاحب کی مبارک پیشانی پر ایک درخشاں نشان نمایاں تھا۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی اولاد کو بھی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے اور سعادت دارین سے متمتع ہونے کی توفیق عطا کرے۔آمِين يَا رَبِّ الْعَالَمِين -33 ایک قلبی دوست کا نصف صدی کا گہرا جائزہ محترم جناب ملک غلام فرید صاحب (ایم اے سابق مجاہد جرمنی و انگلستان ایڈیٹرسن رائزور یویو