اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 165 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 165

165 خیر کا فرمان کئی حکمتوں کا حامل ہے۔اس سے ان کے رفع درجات کے لئے دعاؤں کی تحریک کے علاوہ اپنی اصلاح اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی تحریک ہوتی ہے۔جو اُن کے درجات کی مزید بلندی کا موجب ہوتی ہے۔ذکر خیر مرحومین کی نیکی کے متعلق ایک شہادت ہوتی ہے اور اپنے لئے باعث ثواب۔سو میں حضرت مرحوم کے متعلق بعض باتیں لکھتا ہوں میری واقفیت کا عرصہ اکاون سال پر مشتمل ہے۔1910ء میں میں جب پہلی بار قادیان آیا۔تو آپ اس وقت ریاستی لباس زیب تن کر کے ایک خوش رنگ گھوڑے پر سوار ہو کر ایک خادم کی معیت میں اندرون قصبہ میں مدرسہ آتے جاتے تھے۔1918ء میں قادیان و نواح میں بھی انفلوئنزا کی وباء پھیلی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک کمیٹی ڈاکٹروں اور اطباء کی قائم کی جو سارے علاقہ میں اس وبا کا علاج کریں۔ایک صحابی حضرت حکیم محمد زمان صاحب شاگر د حضرت خلیفہ اول بھی ان میں شامل تھے۔جو حضرت نواب صاحب کے پاس مدت سے بطور خاندانی معالج کے ملازم تھے۔خدا کی حکمت حکیم صاحب اسی مرض میں مبتلا ہو کر راہی ملک بقا ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔آپ کے پسماندگان ایک بیوہ، ایک لڑکا اور چار لڑکیوں کی کفالت حضرت نواب صاحب موصوف نے اپنے ذمہ لے لی۔اس زمانہ میں خاکسار مولوی فاضل پاس کر کے مدرسہ احمدیہ میں بطور معلم ملا زم ہو چکا تھا۔حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب ایک روز میرے پاس تشریف لائے اور علیحدگی میں حضرت حکیم صاحب مرحوم کی لڑکی سے رشتہ کر لینے کی تحریک فرمائی۔میں نے اپنی ناداری اور بے کسی کے باعث اس ذمہ داری کو اٹھانے سے معذرت کر دی۔آپ خاموش ہو گئے۔لیکن یہ امر میرے لئے باعث حیرت ہوا۔کہ ایک ہفتہ کے بعد آپ اپنے ایک ملازم کی معیت میں میرے غریب خانہ پر تشریف لائے اور اس رشتہ کے متعلق مجھے پر زور تحریک فرمائی اور میری تسلی کیلئے یہ بھی فرمایا کہ آپ پر کوئی بوجھ نہ ہو گا۔شادی کے ابتدائی اخراجات میں کروں گا۔چنانچہ اس مشفقانہ تحریک کو خاکسار نے قبول کر لیا۔چنانچہ آپ نے اس وعدہ کا ایفاء فرمایا اور میری بہت مدد فرمائی۔نیز کچھ مدت کیلئے ایک اعلیٰ ہوا دار مکان کا بھی انتظام فرمایا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء - ایک دفعہ ہم میاں بیوی میں ناراضگی ہوگئی اور وہ اپنی والدہ کے پاس چلی گئیں۔میاں صاحب کو سخت صدمہ پہنچا اور آپ نے از راہ شفقت اپنی حکیمانہ پند و نصیحت سے مصالحت کرادی اور بہت خوش ہوئے اور ہم دونوں کی پر تکلف دعوت کی اور اپنی موٹر پر ہمیں ہمارے گھر بھجوا دیا۔اس سے