اصحاب احمد (جلد 11) — Page 325
325 ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے باعث تھا تا اس دفعہ کی مدت میں توسیع کیلئے بہانہ بنایا جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خائب و خاسر رکھا۔(الفضل ۱۹۳۰-۴-۲) تبلیغ کا نفرنس کے نام سے احرار کی طرف سے مئی ۱۹۳۴ء میں تین دن ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔چونکہ ان کے عزائم یہ تھے کہ سلسلہ احمدیہ کی قابلِ احترام ہستیوں پر نا قابل برداشت حملے کر کے جماعت احمدیہ کو جوش دلائیں اور قادیان میں فساد کر وا کے مرکز سلسلہ کو بدنام کریں۔احباب قادیان کو انتہائی مظالم ہونے پر بھی خاموش رہنے اور کانفرنس میں شریک نہ ہونے کی تلقین کی گئی ، صدر جلسہ عطاء اللہ صاحب بخاری کی منافرت پھیلانے والی تقریر کے باعث ان کے خلاف زیر دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند دیوان سکھا آنند پیشل مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بھی مارچ ۱۹۳۵ء میں تین روز شہادت ہوئی۔ان موقع پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ، پیر اکبر علی صاحب مرحوم شیخ بشیر احمد صاحب ( سابق حج ہائی کورٹ مغربی پاکستان ) ، مرزا عبدالحق صاحب (امیر صوبائی سابق پنجاب )، چوہدری اسد اللہ خان صاحب (امیر جماعت ضلع لاہور ) اور مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ ( حال پنشر مقیم ربوہ ) بھی حضور کے ہمراہ تھے۔بخاری صاحب کو چھ ماہ قید کی سزا ہوئی۔اپیل پر جے۔ڈی۔کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے جرم کو محض اصطلاحی قرار دیتے ہوئے تا برخواستگی عدالت قید کی سزا دی۔اور فیصلہ میں جماعت احمدیہ کی بزرگ ہستیوں پر نہایت ناروا حملے کئے۔یہ فیصلہ کیا تھا گندہ دہنی کا ایک پلندہ تھا۔گویا مقدمہ بخاری صاحب کے خلاف نہیں تھا بلکہ حضرت بانی سلسلہ و حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تھا۔افسوس کہ سرکار نے عدالت عالیہ میں صرف اپنے متعلق امور پر ہی نگرانی کی۔اس لئے جماعت احمدیہ کی طرف سے نگرانی دائر کی گئی اور شیخ بشیر احمد صاحب ، مرزا عبدالحق صاحب ، پیرا کبر علی صاحب مرحوم ، چوہدری اسد اللہ خاں صاحب اور مولوی فضل الدین صاحب اس کے پیروکار مقرر کئے گئے۔ڈاکٹر سر تیج بہادر سپر و بیرسٹر الہ آباد بھی ہائی کورٹ بھی جماعت کی طرف سے پیش ہوئے۔جسٹس کولڈ سٹریم حج عدالت عالیہ لاہور نے اپنے فیصلہ میں کھوسلہ مذکور کے فیصلہ کے خلاف سخت ریمارکس کئے اور لکھا کہ سیشن جج نے خواہ مخواہ اپنا راستہ چھوڑ کر ایسے فریق کو کو سا ہے جو فریق مقدمہ نہیں تھا۔* احرار نے جب ۱۹۳۴ء میں قادیان میں ایک عظیم الشان اجتماع کیا اور اس وقت سے پنجاب