اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 326 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 326

326 کے علاوہ بالخصوص قادیان و مضافات میں جماعت احمدیہ کے خلاف شرانگیزی کا آغا ز کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے طرف سے مضافات میں تبلیغ کی خصوصی مہم کا آغا ز زیر نگرانی حضرت چوہدری فتح صاحب سیال کیا گیا۔بفضلہ تعالیٰ اسمیں عظیم کامیابی حاصل ہوئی۔مخالفت کا زور الحکم ۲۸ مارچ و ۷ /اپریل ۱۹۳۵ - الفضل ۲۵ و ۲۷ تا ۲۹ / مارچ ۱۹۳۵ء۔سالانہ رپورٹ ۱۹۳۴۳۵ء (صفحہ ۱۸۶ تا ۱۸۸) و بابت ۳۶-۱۹۳۵ء ( صفحه ۱۵۱و۱۵۲) حضور کی شہادت کے ایام میں تینوں روز پیشل ٹرینیں قادیان سے گورا دسپور تک چلائی گئیں۔جس کا سارا انتظام نظارت امور عامہ کا تھا۔جسکی طرف سے ٹکٹ جاری ہوتے اور رقم وصول کر کے پانچ صد افراد کا کرایہ ریلوے کو ادا ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی طرح ان ایام میں گورداسپور میں تبلیغ بھی ہوئی۔تقریر میں ہوئیں۔ایک جلسہ میں حضور نے بھی تقریر فرمائی۔نوے افراد نے احمدیت قبول کی۔فَالْحَمْدُ اللهِ عَلَى ذَلِكَ۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اس کا انتقام عجیب رنگوں میں ظاہر ہوتا ہے۔وہی سیشن حج بالآخر چیف جسٹس ہائی کورٹ مشرقی پنجاب کے مرتبہ تک پہنچا۔ظاہراً انتہائی ترقی ہوئی۔اسکے ریٹائر ہوتے وقت اخبارات میں اس کی قابلیت کے گیت گائے گئے۔لیکن تقدیر خندہ زن تھی۔چندی گڑھ بارایسوسی ایشن نے الوداعی تقریب کا انتظام کیا جو موصوف نے قبول کر لیا لیکن عین اس سے قبل ایک نمائندہ پریس نے موصوف سے ملاقات کی۔اور اسکی رپورٹ اخبارات میں شائع کی۔جس میں موصوف کے خیالات وکلاء کو شدید دلآزار معلوم ہوئے۔اور وکلاء نے باوجود پورا انتظام ہو جانے کے اس تقریب کو منسوخ کر دیا۔اس نے ایک مضمون شائع کیا جو وکلاء کے لئے مزید دل آزاری کا موجب ہوا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف دل آزار کلمات کہے اور ایسی حیثیت میں کہے کہ جب کہ وہ عدالت کی کرسی پر جاگزیں تھا۔اور اسے کسی قسم کی سزا کا خوف نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت چاہ ذلت میں اُوندھے منہ گرایا جبکہ وہ انتہائی رفعت پر پہنچ کر پوری طرح سرخرو ہو رہا تھا۔اور اخبارات میں اسکی قابلیت کی تعریف میں پل باندھے جارہے تھے اور پوری عزت و آبرو۔تو قیر و احترام اور اکرام و احتشام کے ساتھ سبکدوش ہونے کو تھا لیکن خداوند ذ والانتقام کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی جس کا تصویری اظہار تقریر سے بھی افضح ہوتا ہے۔یکا یک یوں نظر آیا کہ وہ انہی آخری لمحات کی خاطر چھپیں چھبیس سال خاموش رہا اور لوگوں کی نظر میں یہ