اصحاب احمد (جلد 11) — Page 256
256 (۳) آپ نے ایشیائی کانفرنس کے دہلی میں آمدہ نمائندگان انڈو نیشیا ، ملایا ، مصر ، ایران اور بقیہ حاشیہ: - موجود ہے۔نیز الفضل ۳۱/۱۲/۱۴ میں مرقوم ہے : ہے۔ڈاکٹر محمد اقبال صاحب پی۔ایچ۔ڈی مشہور شاعر کے نو جوان فرزند آفتاب احمد نے ( جو یہاں ہائی سکول میں تعلیم پاتا ہے ) حضرت مسیح موعود کی ایک نظم پڑھی۔پھر اپنا مضمون سنایا جس میں احمدی جماعت ہی کو خدا تعالیٰ کی پاک جماعت مان کر پھر مرکز سے قطع تعلق کرنے والوں پر اظہار افسوس تھا۔“ (ص۳) (۳) علامہ نے لاہور کے ایک کشمیری خاندان میں نکاح کیا۔لیکن کسی شر پسند نے اس خاتون کے متعلق گمنام خطوط بھیج کر آپ کو شکوک میں مبتلا کر دیا۔لیکن بعد تحقیق خاتون پاکدامن معلوم ہوئیں۔اس بارہ میں محترم سالک صاحب رقم فرماتے ہیں : انہیں شبہ تھا کہ وہ چونکہ طلاق دینے کا ارادہ کر چکے تھے، اس لئے مبادا شرعاً طلاق ہی ہو چکی ہو۔انہوں نے مرزا جلال الدین کو مولوی حکیم نورالدین کے پاس قادیان بھیجا کہ مسئلہ پوچھ آؤ۔مولوی صاحب نے کہا کہ شرعاً طلاق نہیں ہوئی لیکن اگر آپ کے دل میں کوئی شبہ اور وسوسہ ہو تو دوبارہ نکاح کر لیجئے۔چنانچہ ایک مولوی صاحب کو طلب کر کے علامہ کا نکاح اس خاتون سے دوبارہ پڑھوایا گیا۔“ (صفحہ ۷۰) لاہور، امرتسر، لدھیانہ ، دہلی ، دیوبند، سہارنپور وغیرہ مقامات کے مستند اور اعلیٰ پایہ کے علماء کی طرف رجوع کرنے کی بجائے علامہ اپنے دوست کو جو بیرسٹر تھے قادیان جیسی گمنام بستی کی طرف بھجوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔جہاں پہنچنے کے لئے گیارہ میل کچی سڑک پر ہچکولے کھانے اور گرد پھانکنے پڑیں۔اس وقت آپ کے والد ماجد بھی زندہ تھے اور انہوں نے اس بارہ میں استخارہ بھی کیا تھا۔( ص ۶۹) گویا وہ روک نہ بنے کہ کیوں قادیان سے استفسار کیا۔یا ان کی ناپسندیدگی کا خطرہ نہ تھا۔یہ ۱۹۱۳ء کا واقعہ ہے۔(۴) مولانا غلام رسول مہر مدیر انقلاب جو گول میز کانفرنس کے موقعہ پر ایک دفعہ انگلستان گئے تھے۔اپنی رپورٹ میں تحریر کرتے ہیں کہ مولانا فرزند علی صاحب امام مسجد لندن کی دعوت طعام پر مسجد میں ڈاکٹر سر محمد اقبال ، مولانا شوکت علی ، چوہدری محمد ظفر اللہ خاں ،عبدالمتین چوہدری وغیرہ