اصحاب احمد (جلد 11) — Page 257
257 افغانستان کو چائے پر مدعو کیا۔اور آپ نے جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کا بھی نہایت اعلیٰ اور عام فہم بقیہ حاشیہ: - مسلم رہنما تشریف لے گئے۔انگریز نو مسلموں نے ملاقات کی ، بعض انگریز خا تو نوں صاحبزادیوں اور نوجوانوں نے قرآن مجید سنایا۔سب نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ خدا کا آخری پیغام انگریز قوم کی زبان پر جاری ہو رہا ہے۔ایک انگریز نو جوان عبدالرحمن ہارڈی کے حسن قرآت اور صحت تلفظ سے سب بے حد محظوظ ہوئے۔ایک چھ سات سالہ انگریز بچی نے سورۃ فاتحہ سنائی، علامہ اقبال نے اسے ایک پونڈ انعام دیا۔علامہ موصوف نے محفلِ قرآت کے بعد ایک مختصر مگر نہایت ہی پر تاثیر تقریر میں نومسلموں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ اپنی قلت تعداد سے دل شکستہ نہ ہوں۔دنیائے اسلام کے چالیس کروڑ فرزندانِ توحید آپ کے بھائی ہیں۔آپ کے ہم قوم اور آپ کے ساتھی ہیں۔یہ بھی فرمایا کہ یورپ کی تین زبانیں انگریزی ، فرانسیسی اور جرمنی اوج ترقی پر پہنچ رہی ہیں۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ عربی زبان کا جو قرآن پاک کی زبان ہے مستقبل بھی بے حد درخشاں ہے۔آپ کو اس پر توجہ کرنی چاہیئے۔اور بالآخر مولوی فرزند علی صاحب کا شکر یہ ادا کیا۔جن کی عنایت سے یہ موقع میسر آیا تھا۔( روزنامہ انقلاب لاہور مورخہ ۲۹/۱۰/۳۱ بحواله الفضل ۱۱/۳۱ را صفحه ۹) بالاختصار اس کا ذکر سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ بابت ۳۲ - ۱۹۳۱ء صفحه ۴ پر بھی ہے کہ ڈاکٹر اقبال و دیگر مسلم رہنما نے مسجد فضل لندن میں مسلم و غیر مسلم احباب کے سامنے تقاریر کیں ، اور نو مسلموں سے قرآن مجید اور نمازیں سنیں اور مشن کے ٹھوس کام سے متعلق گہرا اثر لے کر گئے۔دور سوم۔علامہ اقبال نے جماعت احمدیہ کی علی الاعلان مخالفت شروع کر دی۔مخالفت کا یہ دور ۱۹۲۹ء کے بعد غالبا ۱۹۳۲ء میں شروع ہوا۔۱۹۲۹ء میں آپ کے والد بزرگوار اور استاد مولانا میر حسن داغ مفارقت دے گئے اور کوئی بزرگ روکنے والا باقی نہ رہا۔اور ۱۹۳۵ء میں علامہ نے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے کر اپنی علمیت کو حد درجہ داغدار کر دیا۔گویا عمر بھر جماعت احمدیہ کے عقائد کا بھی ان کو حقیقی علم نہ ہو سکا۔آغاز یوں ہوا کہ ڈوگرہ راج میں کشمیری مسلمانوں پر جبر و استبداد کا ایک انتہائی صعبناک دور شروع ہوا۔اس میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے نہایت توجہ کے ساتھ اور وقت اور روپیہ کی قربانی کر کے مہاراجہ کے مظالم کے انسداد کی سعی کر کے بلیغ کی اور مسلمانوں کی بروقت اور ضروری امداد کی۔جب یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر آئی تو علامہ کو یہ امر پسند نہ آیا کہ اس کا اعزاز امام جماعت احمدیہ کو حاصل ہو ، اختلاف دیکھ کر امام جماعت نے استعفیٰ دے دیا۔