اصحاب احمد (جلد 11) — Page 255
255 اخبارات میں بھی آپ کی آمد کا ذکر ہوا۔جس کے ساتھ تفصیلاً جماعت احمدیہ کا بھی ذکر ہوا۔بقیہ حاشیہ نے تاریخ وفات سوچنے کو کہا، اور علامہ نے تھوڑی دیر میں یہ تاریخ کہی۔انی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ - ( ص ۱۹) یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ اسی آیت میں متوفیک سے ایک قوی استدلال وفات عیسی کا حضرت مرزا صاحب بہت تہدی سے کرتے تھے۔اور متوفیک والی آیت وفات عیسی کے تعلق میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، اور کئی صد علماء نے حضرت مرزا صاحب پر کفر کا فتویٰ دیا۔گویا علامہ اور آپ کے استاداس کے معنی میں حضرت مرزا صاحب کے ہمنوا تھے۔مولانا میر حسن نے حضرت مرزا صاحب کو اس وقت بہت قریب سے دیکھا تھا۔جب حضرت مرزا صاحب سیالکوٹ میں کئی سال تک مقیم رہے اور حضرت مرزا صاحب کی وفات کے بعد مولانا نے حضرت مرزا صاحب کی پاکیزہ سیرت کے متعلق اپنے تاثرات بھی تحریر کئے جن سے ظاہر ہے کہ مولانا حضرت مرزا صاحب کے تقوی وطہارت کے شاہد اور قائل تھے۔بہت ممکن ہے کہ باوجود علامہ اقبال کے والد صاحب کے جماعت احمدیہ سے الگ ہونے کے حضرت مرزا صاحب کے متعلق مولانا میر حسن کے تاثرات علامہ اقبال پر ثبت ہوتے رہے ہوں۔دور ثانی میں علامہ اقبال احمدیت کے لئے سرگرم نہ تھے لیکن مداح تھے۔(۱) چنانچہ انہوں نے ایک تقریر میں جو علی گڑھ میں تھی کہا تھا:۔” میری رائے میں قومی سیرت کا وہ اسلوب جس کا سایہ عالمگیر کی ذات نے ڈالا ہے، ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ ہے ، اور ہماری تعلیم کا مقصد ہونا چاہیئے کہ اس نمونہ کو ترقی دی جائے۔اور مسلمان ہر وقت اپنے پیش نظر رکھیں۔پنجاب میں ایسی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں۔“ ( ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر ) ظاہر ہے کہ وسیع مطالعہ کے بعد آپ نے یہ رائے ظاہر کی تھی۔(۲) آپ نے اپنے بڑے بیٹے آفتاب احمد کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم وتربیت کی خاطر چار پانچ سال تک داخل کئے رکھا۔چنانچہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی دوکان کا روز نامچہ جو ۲۰/۱/۱۸ سے ۲۸/۹/۲۰ تک کا ہے۔اس میں ان کے ادہار کی یادداشت