اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 113 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 113

113 دوسرے لوگ حافظ ہیں۔جن ڈاکٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نے صرف چار پانچ مہینے میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب حج فیڈرل کورٹ آف انڈیا ( حال وزیر خارجہ پاکستان ) کے والد صاحب نے اپنی آخری عمر میں جبکہ وہ قریباً ساٹھ سال کے تھے ، چند مہینوں میں سارا قرآن حفظ کر لیا تھا۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه 468،467) تاثرات احباب : 66 ذیل میں حضرت چوہدری صاحب کے متعلق بعض احباب کے تاثرات درج کئے جاتے ہیں : (۱) جناب سردار سنتوکھ سنگھ صاحب چیمہ قادیان بیان کرتے ہیں کہ حضرت چوہدری صاحب کا یہ طریق تھا کہ اپنے علاقہ کا جولڑ کا میٹرک پاس کر لیتا، اسے اپنے پاس بلا کر اپنے ہاں رکھتے۔گویا اپنے اوپر اس کی ذمہ داری لے لیتے اور پھر اس کی ملازمت کا انتظام کرتے۔(۲) محترم مولوی ظہور حسین صاحب فاضل ( سابق مجاہد بخارا) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت چوہدری صاحب مرحوم نظارت علیاء کے عہدہ جلیلہ پر فائز تھے اور اکثر فارغ اوقات میں حفظ قرآن مجید کے لئے بڑے باغ میں تشریف لے جاتے تھے میں مدرسہ احمدیہ کی آخری جماعتوں کا طالب علم تھا مجھے بھی امتحان کی تیاری کیلئے وہاں جانے اور آپ کی خدمت میں دعا کیلئے عرض کرنے کا موقعہ ملتا۔آپ بہت شفقت سے پیش آتے۔اور فرماتے میں دعا کروں گا۔غالبا ۱۹۲۱ء میں میں نے مولوی فاضل کا امتحان دیا اس وقت بھی دعا کے لئے عرض کیا۔فرمایا آپ انشاء اللہ تعالیٰ مرحوم ( ناظر بیت المال ) ڈاکٹر صاحب اس وقت بورنیو میں خدمات دینیہ میں مصروف تھے اب بہشتی مقبرہ ربوہ میں آرام فرما ہیں۔دوسرے ڈاکٹر مسعود احمد صاحب ( پسر محترم بھائی محمود احمد صاحب ڈنگوی صحابی ) مالک داؤ دمیڈیکل ہال۔سرگودھا۔ย سردار صاحب اس وقت خالصہ کلا سوالہ ہائی سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر ہیں اور حضرت چوہدری صاحب کے صاحبزادہ محترم چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب مرحوم کے پہلی جماعت سے ایف اے تک ہم جماعت رہے ہیں۔