اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 114 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 114

114 کامیاب ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہوا۔جب میں روس سے واپس آیا تو پھر بھی دعا کیلئے عرض کرتا رہا۔آپ خوش طبعی سے فرماتے کہ اب آپ کو دعا کی کیا ضرورت ہے آپ تو بخارا سے ہو آئے ہیں۔میں نے آپ کے متعلق یہ بھی سنا ہے کہ آپ جلسہ سالانہ پر اپنے اور عزیزوں کے پار چات قادیان میں تیار کرواتے تا قادیان والوں کو فائدہ پہنچے میں نے آپ کو نہایت ہی خوش خلق ، ہمدرد اور اسلام کا فدائی پایا۔ย (۳) محترم چوہدری علی محمد صاحب بی اے، بی ٹی ( صحابی) مقیم ربوہ بیان کرتے ہیں کہ جب میری برات سیالکوٹ گئی تو حضرت چوہدری صاحب کے مکان پر ہی جو کہ امام صاحب کے قرب میں کرایہ کا تھا، برات کے قیام کا انتظام تھا آپ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ حضرت چوہدری صاحب ڈسپلن کے بہت پابند تھے۔چنانچہ آپ صدر انجمن کے کارکنوں کی حاضری با قاعدگی سے لیتے تھے۔چندہ کے معاملہ میں آپ بہت محتاط تھے۔چنانچہ وکالت کے عرصہ میں آپ کا یہ طریق تھا کہ شام کو گھر آ کر اس روز کی آمد کا چندہ الگ کر کے ایک برتن میں ڈال دیتے اور پھر محاسب جماعت کے سپر د کر دیتے۔آپ کی طبیعت میں بہت سادگی تھی اور باوجود صاحب ثروت ہونے کے کھانے میں بھی سادگی تھی۔چنانچہ میری مرحومہ اہلیہ اول ( بنت حضرت مولوی فیض الدین صاحب امام مسجد احمد یہ سیالکوٹ ) سناتی تھی کہ چوہدری صاحب معمولی چیزوں سے بھی روٹی کھا لیتے تھے اور بعض معمولی چیز میں آپ کو مرغوب بھی تھیں۔مرحومہ نے یہ بھی بیان کیا کہ مشہور معاند احمدیت مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی برادر زادی نے عیسائیت قبول کر لی۔اسے واپس لینے کے لئے غیر احمد یوں نے عدالت کی طرف رجوع کیا۔اور حضرت چوہدری صاحب کو وکیل مقرر کیا۔لڑکی نے بیان دیا کہ عیسائیت کی فلاں فلاں باتیں مجھے اپیل کرتی ہیں اور میں عیسائی ہو چکی ہوں۔اس لئے مجھے واپس دلایا جانا کسی طرح درست نہیں اور اس نے اپنا برقعہ اتار کر پھینک دیا۔چوہدری صاحب نے اس پر ایسے سوالات کئے کہ اس کا ناطقہ بند کر دیا اور وہ کوئی جواب نہ دے سکی۔آپ نہایت مختصر اور جامع مانع گفتگو کے عادی تھے۔حضرت مولوی فیض الدین صاحب فرماتے تھے کہ ایک شخص اپنا خانگی جھگڑا میرے پاس لایا۔میں اسے سارا دن سمجھاتا رہا۔لیکن اس پر قطعاً کوئی اثر نہ ہوا۔بالآخر میں نے اسے چوہدری صاحب کے پاس بھجوا دیا اور آپ نے دو چار