اصحاب احمد (جلد 11) — Page 112
112 شَكَوْتُ إِلَى وَكِيعِ سُوءَ حِفْظِئُ فَاَوْ صَانِي إِلَى تَرْكِ الْمَعَاصِي لَانَّ الْعِلْمَ نُورٌ مِنْ الهِ وَ نُورُ اللَّهِ لَا يُعْطَى لِعَاصِي ( حضرت وکیع آپ کے اُستاد تھے۔) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں: چونکہ قرآن شریف کے پڑھنے اور لکھنے اور پھیلانے کو بہت بڑا ثواب قرار دیا گیا تھا۔اس لئے اسلامی حکومت میں بڑے بڑے علماء اور بادشاہ تک قرآن کریم کی کا پیاں لکھا کرتے تھے۔عرب اور اس کے ارد گرد کے بادشاہوں اور علماء کا تو ذکر چھوڑو ہندوستان جیسے ملک میں جو عرب سے بہت دور واقع ہوا تھا۔اور جہاں ہندو رسم و رواج غالب آچکا تھا۔مغل بادشاہ اور نگ زیب اپنی فرصت کے اوقات میں قرآن شریف لکھا کرتا تھا۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی عمر میں سات نسخے قرآن کریم کے لکھے۔پھر مسلمانوں میں حفظ قرآن کی شروع سے اتنی کثرت پائی جاتی ہے کہ ہر زمانہ میں ایک لاکھ سے دو لاکھ تک حافظ دنیا میں موجود رہا ہے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ حافظ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔حافظ اس کو کہتے ہیں جو شروع سے لے کر آخر تک اس کے تمام حصوں کو یاد رکھتا ہے۔عام طور پر یورپین مصنف اپنی ناواقفی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہو سکتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ وہ ایسی سریلی زبان میں نازل ہوا ہے کہ اس کا حفظ کرنا نہایت ہی آسان ہے میرا بڑالڑ کا ناصر احمد جو آکسفورڈ کا بی۔اے آنرز اور ایم۔اے ہے۔میں نے اسے دنیوی تعلیم سے پہلے قرآن کریم کے حفظ پر لگایا اور وہ سارے قرآن کا حافظ ہے قادیان میں دو ڈاکٹر حافظ ہیں۔اسی طرح اور بہت سے گریجوائیٹ اور مراد ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب ( میجر ) پسر حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب