اصحاب احمد (جلد 11) — Page 264
264 (۶) ۱۵/۱/۵۱ کو چوہدری صاحب نے امریکہ کے صدر ٹرومین کی خدمت میں ترجمہ قرآن مجید کی دوسری جلد پیش کی۔کیونکہ صدر موصوف نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں اسلامی قوانین کے بقیہ حاشیہ سے حذف کر دیا جائے اور ان کو ہندوؤں ، اچھوتوں اور عیسائیوں کی طرح ایک علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے۔خدا جانے علامہ اقبال نے کس عقیدت مند کی درخواست پر ایک مضمون لکھ دیا جس میں بتایا کہ اس فرقے کی بنیاد ہی غلطی پر ہے۔اس کے علاوہ بعض اور علمی نکات بیان کئے اور آخر میں حکومت کو یہ مشورہ دیا کہ اس فرقے کو ایک علیحدہ جماعت تسلیم کرلے۔“ ( ص ۲۱۰) افسوس کہ علامہ کے رفقاء میں سے کسی نے نہ پوچھا کہ سعد اللہ کی مخالفت میں آپ نے نظم لکھی۔اپنے بیٹے کو قادیان میں تعلیم دلائی۔مسجد احمد یہ لندن میں احمدی نومسلموں کو مسلمان سمجھا اور انہیں حوصلہ دلایا کہ اقلیت ہونے کے باعث فکر مند نہ ہوں۔جماعت احمدیہ کا نمونہ ٹھیٹھ اسلامی قرار دیا۔اب یکا یک کون سا انکشاف ہوا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے زور آزمائی شروع کر دی۔کیا آپ اسلام اور مسلمانوں کو عمر بھر شناخت نہ کر سکے؟ یا للعجب !! کیا علامہ دل سے یہی کچھ سمجھتے تھے؟ وفات کے قریب اپنے بچوں کی نگرانی کے لئے جو چند افرا د مقرر کئے ان میں آپ کا برا در زادہ بھی تھا۔(ص ۲۱۶) جو کہ بفضلہ تعالیٰ احمدی تھا اور ہے۔کیا اتنے غیور مسلم رہنما کو ایک غیر مسلم کا بدل نہ مل سکا ؟ ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے ( مترجم قرآن مجید انگریزی ) اپنے فاضلانہ مضامین میں لکھتے ہیں ، کہ ڈاکٹر اقبال کا احمدیت پر حملہ زیادہ تر سیاسی وجوہات پر مبنی ہے۔وہ اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات (۱۹۱۴ء) سے قبل ڈاکٹر صاحب لاہور کی مقامی جماعت کے مرکز میں باقاعدگی سے آتے اور جلسوں کی صدارت کرتے اور ان میں تقریریں کرتے اور اس وقت کے احمد یہ جماعت کے مذہبی سربراہوں سے اعلانیہ میل ملاقات رکھتے ہوئے ان کی مذہبی سرگرمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔ان کا یہ کہنا کہ ایسے افراد کے ساتھ ان کے تعلقات ذاتی حیثیت کے تھے نا درست ہے۔ہم اس جواب کو درست تسلیم کرتے اگر ۱۹۳۱ء تک بھی یہ صورت نظر نہ آتی کہ انہوں نے اس وقت موجودہ امام جماعت احمدیہ کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی حقیقی معنوں میں