اصحاب احمد (جلد 11) — Page 265
265 بارے میں زیادہ معلومات بہم پہنچائی جائیں۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ پہلی جلد قبل از میں آپ پیش کر چکے ہیں۔* ڈکٹیٹر شپ نہ پیش کی ہوتی اور آپ کو مکمل تعاون کی پیشکش نہ کی ہوتی۔اور گول میز کانفرنس میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب جیسے ممتاز احمدی کے ساتھ گہرے اتحاد کے ساتھ ہاتھ نہ بٹایا ہوتا ،فروری ۱۹۳۵ء تک بھی علامہ جماعت احمدیہ کی ہمنوائی کو ناپسند نہ سمجھتے تھے۔چنانچہ وو اخبار ” مجاہد مورخہ ۱۳/۲/۳۵ میں علامہ موصوف کا یہ اعتراف درج ہے:۔مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسی ایک فانی انسان کی طرح جام مرگ نوش فرما چکے ہیں اور نیز یہ کہ ان کا دوبارہ ظہور کا مقصد یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے ان کا مثیل پیدا ہوا کسی حد تک معقولیت کا پہلو لئے ہوئے ہے۔( الفضل ۱۸/۸/۶۲ ص ۵) انگریزی روز نامہ سٹیٹسمین نے ۱۴/۵/۳۵ کی اشاعت نے بھی ڈاکٹر صاحب کی بات کو برا منایا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ خاتم النبین ہونے کے شدید وابستگی نے چوہدری صاحب کے وائسرائے کی کونسل کے بطور ممبر ہونے کے بعد ہی جوش مارا ہے۔قادیانی فرقہ کشمیر کمیٹی کے معرض وجود میں آنے اور چوہدری صاحب کے تقرر سے تمہیں سال قبل کا قائم ہے۔پنجاب کونسل کے انتخاب کے لئے چوہدری صاحب کے کھڑا ہونے کے موقعہ پر یا پہلی دفعہ وائسرائے کی کونسل کا ممبر مقرر ہونے پر ڈاکٹر صاحب نے کیوں صدائے احتجاج بلند نہ کی تھی۔ڈاکٹر صاحب چاہتے ہیں کہ چوہدری صاحب جیسے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر ڈاکٹر صاحب اور ان جیسے افراد کو ان اعلیٰ عہدوں سے محروم نہ رکھ سکیں۔ملک صاحب مکرم مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر کمیٹی کی صدارت کے لئے ڈاکٹر صاحب نے بھی حضرت امام جماعت احمدیہ کا نام تجویز کیا تھا۔اور باصرار التجا کی تھی کہ آپ اس پیشکش کو قبول کر لیں۔اس وقت کشمیر کے مسلمانوں کی خدمت کے لئے ڈاکٹر صاحب کو صرف حضرت مدوح کی شخصیت ہی قابل نظر آتی تھی اور اب وہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔ریویوآف ریلیجنز (انگریزی ( بابت جون ۱۹۳۵ء و مارچ ۱۹۳۶ء ص۱۰۳۔مضامین D Muhammad Iqbal's Bitter Attack On The Ahmadiyya Community اور (Dr۔Iqbal And Ahmadiyya Movement)