اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 263 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 263

263 سال قبل تسلیم کیا تھا کہ عصر حاضر میں اچھوتوں کو اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی طرف سے دی جارہی رعائتیں خود غرضی پر مبنی ہیں۔( ویر بھارت مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۳۲ء بحواله الفضل ۶/۵/۳۲ ص ۷ ) بقیہ حاشیہ: اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا میر حسن نماز کے اراداہ سے مسجد میں پہنچے ہوں گے۔یہ نیت نہ ہوتی تو وہ مسجد میں انتظار نہ کرتے بلکہ اطلاع بھجوا کر ملاقات کر لیتے۔گو یا دیگر علماء مکفرین کی طرح نہ تھے۔بلکہ بلکہ ساتھ نماز پڑھنے میں بھی حرج نہ سمجھتے تھے۔یہ تو ہوا مولانا میر حسن کا حضرت مرزا صاحب کے متعلق رویہ اور حسنِ ظن۔دوسری طرف علامہ اقبال سمجھتے تھے کہ میں سب کچھ اپنے استاد مولانا میر حسن کی تعلیم کا نتیجہ ہوں اور حد درجہ مؤدب تھے اور ہمیشہ ان سے استفاضہ کرتے تھے۔بلکہ سر کا خطاب اس وقت تک لینے سے آپ نے انکار کیا جب تک کہ آپ کے استاد کو شمس العلماء کا خطاب نہ دیا جائے چنانچہ دیا گیا۔علامہ ان کے متعلق کہتے ہیں۔شمع بارگهہ خاندانِ مصطفوی رہے گا مثلِ حرم جس کا آستاں مجھ کو نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلی بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیں کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو دعا وو (ص ۲۸۸) علامہ اپنے استاد موصوف کی زندگی میں حضرت مرزا صاحب کی مخالفت نہ کر سکتے تھے اور مولانا میرحسن اس امر کو ہرگز به نظر استحسان نہ دیکھتے۔ان کی وفات کے بعد کوئی ایسا شخص موجود نہ تھا جن کے سامنے زانوئے ادب علامہ تہہ کرتے ہوں۔اس لئے کشمیر کمیٹی کے معاملہ میں برافروختہ ہوکر انہوں نے جماعت احمدیہ کی مخالفت کی اور اسے انتہا تک پہنچا دیا۔ذکر اقبال میں مرقوم ہے :۔۱۹۳۵ء میں مولانا ظفر علی خاں اور مجلس احرار نے احمدیوں کے خلاف ایک عام تحریک کا آغاز کیا۔صوبے کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے عالی شان جلسے منعقد ہوئے۔جلوس نکالے گئے۔اخباروں نے بالخصوص ”زمیندار“ نے اپنے صفحوں کے صفحے احمدیت کی مخالفت میں سیاہ کر دئے۔عامۃ المسلمیں کا قول یہ تھا کہ حضور سرور کائنات صلعم کے بعد مدعی نبوت کا فر مطلق ہے۔اور جو لوگ حضور صلعم کے بعد کسی کو نبی مانتے ہیں۔ہ گویا رسالت محمدیہ صلعم کے منکر ہیں۔لہذا ملتِ اسلامیہ سے خارج ہیں۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں کو مسلمانوں کی فہرست رائے دہندگان