اصحاب احمد (جلد 11) — Page 80
80 اختیار میں ہے۔اور بظاہر حالت رو بصحت ہے۔خدا چاہے تو شفا عطا فرمادے۔لیکن بیماری کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اور اپنی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے میں چاہتا ہوں کہ چند ہدایات تمہیں لکھوا دوں۔میں نے کاغذ قلم لے لیا۔اور انہوں نے چند مختصری ہدایات لکھوادیں۔جن میں سے ایک یتھی کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرنا کہ اگر باعث تکلیف نہ ہو ( حضوان ایام میں ڈلہوزی تشریف فرما تھے ) تو میرا جنازہ خود حضور پڑھا دیں۔اس کے بعد پھر آخر تک انہوں نے کسی قسم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ یوں کرنا اور یوں نہ کرنا۔گو ان کی صحت اس کے بعد بظاہر اچھی ہوگئی تھی۔حتی کہ کھانا پینا ، چلنا پھرنا شروع کر دیا۔ایک دن میں نے ذکر کیا کہ حضرت صاحب نے ڈلہوزی سے خاکسار کو تحریر فرمایا ہے کہ تم کبھی ڈلہوزی نہیں آئے ، اب کی بار ڈلہوزی آؤ۔تو والد صاحب نے خوب شوق سے فرمایا۔اچھی بات اس دفعہ ڈلہوزی چلیں گے۔والدہ صاحبہ نے مسکرا کر کہا۔آپ کی صحت کی تو یہ حالت ہے اور ڈلہوزی کے ارادے کر رہے ہیں۔والد صاحب نے فرمایا۔کیا معلوم اللہ تعالیٰ شفا دیدے۔آخر اگست میں پھر والد صاحب کے پھیپھڑے پر بوجھ پڑنا شروع ہو گیا۔جس سے معلوم ہوا کہ پھر پانی جمع ہو رہا ہے۔طبی مشورہ یہ تھا کہ پانی نکالنا چاہیئے۔والد صاحب اس دفعہ پانی نکلوانے سے کچھ گھبراتے تھے۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے مشورہ کیا۔انہوں نے فرمایا اگر ڈاکٹروں کی رائے میں یہی علاج ہے تو پھر چارہ نہیں۔چنانچہ والد صاحب بھی رضا مند ہو گئے۔اور ۲۹ /اگست اتوار کے دن دوبارہ پانی نکالا گیا۔اس دوران میں والدہ صاحبہ بوجہ ڈاکٹر صاحبان کی موجودگی کے اس کمرہ میں نہیں تھیں، جہاں والد صاحب کا پلنگ تھا۔کسی دوسرے کمرے میں سجدہ میں پڑی ہوئی دعا کر رہی تھیں۔جب ڈاکٹر صاحبان ساتھ والے کمرہ میں چلے گئے تو خاکسار نے والدہ صاحبہ کو اطلاع کی۔اور وہ والد صاحب کے کمرہ میں تشریف لے آئیں۔اور اس طرح انہوں نے ڈاکٹر صاحبان کو دوسرے کمرہ سے باہر جاتے ہوئے دیکھ لیا۔انہیں دیکھ کر وہ کچھ گھبرا گئیں اور الگ مجھ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ خیر کرے۔تمہیں میرا وہ خواب یاد ہے جو چند دن ہوئے میں نے تمہیں بتایا تھا۔وہ دو شخص جن کو خواب میں میں نے کوٹھی سے باہر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ یہی دو شخص تھے۔جو اس کمرہ سے ابھی باہر گئے ہیں۔میں نے خواب میں بعینہ انہیں اسی لباس میں دیکھا تھا اور اسی طرح پیٹھ کی طرف سے ان کے بت مجھے کمرہ سے باہر نکلتے ہوئے نظر آئے تھے۔