اصحاب احمد (جلد 11) — Page 79
79 جناب چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں: حج سے واپس آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کو دو سال اور زندگی عطا فرمائی۔اگست ۱۹۲۵ء میں والد صاحب اور والدہ صاحبہ خاکسار کے ہمراہ کشمیر جانے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔رستہ میں چند دن کے لئے کوہ مری کے مقام پر ہم نے قیام کیا۔اس مختصر سے قیام کے عرصہ میں والد صاحب کی طبیعت بہت علیل ہوگئی اور حالت تشویش ناک ہوگئی۔لیکن اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں صحت عطاء فرمائی۔گو ان کی علالت کی وجہ سے اکثر حصہ اگست اور ستمبر کا ہمیں کوہ مری میں ہی گزارنا پڑا۔اور آخر تمبر میں صرف چند دن کے لئے ہم کشمیر جاسکے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔آخر جولائی یا شروع اگست ۱۹۲۶ء میں والد صاحب جماعت کے ایک مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے قادیان سے سیالکوٹ تشریف لے گئے۔خاکسار بھی اس مقدمہ کے تعلق میں سیالکوٹ گیا ہوا تھا۔وہاں والد صاحب نے ذکر کیا کہ مجھے کھانسی کی شکایت ہے لیکن کوئی خاص تکلیف بیان نہ کی۔مقدمہ کی کارروائی سے فارغ ہو کر والد صاحب ڈسکہ تشریف لے گئے اور خاکسار بھی لاہور چلا گیا۔۱۲ اگست کو خاکسار کو اطلاع ملی کہ والد صاحب کو زیادہ تکلیف ہے۔خاکسار فورا ڈسکہ گیا اور والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو اپنے ساتھ لاہور لے گیا۔لاہور پہنچتے ہی ان کا معائنہ کروانے پر معلوم ہوا کہ ان کو پلوریسی کی تکلیف ہے۔اور پھیپھڑے کے نیچے کی جھلی میں پانی جمع ہورہا ہے۔چنانچہ دوسرے دن یہ پانی نکالا گیا۔جس سے کھانسی میں بہت حد تک افاقہ ہوگیا اور بظاہر انکی حالت رو بصحت ہو گئی۔دد لیکن وہ خود چونکہ با قاعدہ طب پڑھے ہوئے تھے۔بیماری کے آثار سے اس کی نوعیت کو پہچانتے تھے۔چنانچہ لاہور پہنچنے کے دو تین دن بعد مجھے فرمایا کہ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ مئی ۱۹۲۶ء میں حضرت چوہدری صاحب نے رخصت حاصل کی اور آپ کے قائم مقام کے تقرر کے متعلق دو اعلانات ہوئے۔جن کی عبارت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ انتظام قدرے طویل عرصہ کی رخصت کے پیش نظر ہے۔گو وہاں مرقوم نہیں چوہدری صاحب کی رخصت بوجہ علالت ہی ہوگی۔