اصحاب احمد (جلد 11) — Page 61
61 رہا ہے۔ہم پوری طرح جائزہ لے سکتے ہیں، کیونکہ ہماری جماعت ہندوستان میں ہر طبقہ میں پھیلی ہوئی ہے۔سیلف گورنمنٹ کا مطالبہ اس بے چینی کا باعث نہیں۔بلکہ اس کے بواعث یہ ہیں۔اول۔بعض انگریز افسروں کا دیسیوں سے سلوک اچھا نہیں۔وہ ذرا ذراسی بات پر گالیوں پر اتر آتے ہیں۔یا بے تو جہی کرتے ہیں۔اس سے اندر ہی اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔اور خواہ ایسے افسران کی تعداد قلیل ہو۔چونکہ تبادلے ہوتے رہتے ہیں، اس لئے ایسے افسران سے بے چینی کا حلقہ بڑھتا رہتا ہے اور جو لوگ حکومت کے خیر خواہ تھے، وہ آج برطانوی راج کے مخالف ہیں۔ہمیں علم ہے کہ ایک کالج کی ہڑتال میں بوجہ ہڑتال کے ناجائز سمجھنے کے احمدی طلباء شامل نہیں ہوئے۔لیکن ان احمدی طلبہ نے بتایا کہ ہمارے دل دوسروں سے کم تکلیف محسوس نہیں کرتے۔کیونکہ ہم نے اپنے کانوں سے انگر یز پرنسپل کو ہندوستانی طلبہ سے یہ کہتے سنا کہ تم ہمارے غلام ہو۔دوم۔انگریزوں اور دیسیوں میں جو امتیاز روا رکھا جاتا ہے وہ اضطراب پیدا کرتا ہے۔ریلوں میں یورپین لوگوں کے لئے خاص کمرے مخصوص ہیں۔قانون اسلحہ میں دونوں میں امتیاز رکھا جاتا۔نو آبادیوں میں ہندوستانیوں سے بدسلوکی کی جاتی ہے۔حالانکہ ہندوستان میں نو آبادیوں کے رہنے والوں کو خود ہندوستانیوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔جب کسی یورپین کے ہاتھوں کوئی دیسی مارا جائے تو یورپین افراد پر مشتمل جیوری قریباً ہمیشہ کسی نہ کسی عذر پر یورپین ملزم کو بری قرار دے دیتی ہے یا معمولی سزا دیتی ہے۔سوم۔افزائش نسل وغیرہ کے باعث اقتصادی اور تمدنی حالت نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔چہارم۔تعلیم کا انتظام بہت کم ہے۔صرف کتاب کا رٹنے والا تیار کرنا غیر مفید ہے۔زمیندار کے لئے ایسی تعلیم چاہیئے جو باعلم زمیندار پیدا کر سکے۔اور زیادہ خرچ تعلیم پر نہ اُٹھے۔اور صنعت و حرفت و غیرہ مختلف فنون کی بھی تعلیم دی جانی ضروری ہے۔اس سپاس نامے میں یہ امر بھی پیش کیا گیا کہ ہوم رول دیتے وقت اس امر کا اطمینان کر لینا کافی نہیں کہ کام سنبھالنے کے قابل لوگ پیدا ہو گئے ہیں یا نہیں بلکہ یہ بھی کہ کیا کوئی نقصان والی صورت تو رونما نہ ہوگی۔ہمارے نزدیک ہندوستان میں شدید مذہبی اور نسلی اختلافات کے باعث وسعتِ حوصلہ اور بے تعصمی کی ایسی کمی ہے کہ جس کی نظیر دیگر ممالک میں نہیں پائی جاتی۔اس لئے ہمارے