اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 62 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 62

62 نزدیک ہندوستان ابھی سیلف گورنمنٹ کے لائق نہیں اور ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ہندوستان میں ایسے مقامات بھی ہیں کہ جہاں مساجد کی تعمیر کی اجازت نہیں۔بعض نے یہ فتاوی دیئے ہیں کہ فلاں فرقہ کے افراد کو قتل کرنا۔ان کے اموال کو لوٹ لینا اور ان کی عورتوں کا اغوا جائز ہے۔اقلیتوں کو فی الحال سخت نقصان پہنچے گا۔ملازمتوں۔امتحانات تجارت اور انتخابات سب میں شدید تعصب کارفرما ہے۔عوام کی حالت یوں ہو تو ان کے انتخاب شدہ نمائندوں کو بھی عوام کو ساتھ رکھنے کے لیئے ان کا ساتھ دینا ہو گا۔اور یہ امر ہندوستان کے لئے ہلاکت و مصیبت کا باعث ہوگا۔دیگر بعض جماعتوں نے وائسرائے کی ویٹو پاور وغیرہ کی جو تجاویز پیش کی ہیں ، نہایت غیر مؤثر اور ناکافی ہیں اور ہمیشہ ان کو استعمال میں لانا ناممکن ہے۔سو امور بالا کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ہندوستانیوں میں سیاست کا صحیح علم پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔* اس بارہ میں صرف اس قدر ذکر کرنا ہی کافی ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) نے جن شدید خدشات کو اپنی دور بین نگاہ سے بھانپ لیا تھا۔افسوس کہ وہ تمہیں سال بعد تقسیم ملک ہونے پر رونما ہوئے اور نہایت بھیانک اثرات چھوڑ گئے۔۱۷؍ دسمبر ۱۹۱۹ ء کو لاہور میں جماعت احمدیہ کے وفد نے سر ایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔جس میں یہ امر بھی شامل تھا کہ گو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیفہ کو خلیفہ مانتے ہیں نہ کہ خلیفہ ترکی کو لیکن مسلمانوں کے اس مطالبہ میں ہم ہمنوا ہیں کہ ترکوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت مسلمانوں کے احساسات کا پاس خاطر کیا جائے۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ایڈریس پڑھا۔جس کا سر موصوف نے جواب دیا۔اور آخر پر اس وفد کے بقیہ افراد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب (مَتَّعُنا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهِ ) نواب محمد علی خاں صاحب۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔مولوی شیر علی صاحب سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب۔مولوی غلام اکبرخاں صاحب ( بعدہ نواب اکبر یار جنگ بہادر دکن) اور خان بہادر راجہ پائندہ خاں صاحب (ضلع جہلم) تھے۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسی روز وزیر ہند صاحب سے جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی ترجمانی میں ملاقات بھی کی (ریویو آف ریجنز (اردو) بابت دسمبر ۱۹۱۷ء۔الفضل ۱۷-۱۱-۲۰ ، الفضل ۱۷-۱۱-۷ ازمیر مدینہ اسی ، چوہدری صاحب کا حضور کے ہمرکاب دہلی جانے کا ذکر ہے۔