اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 60 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 60

60 کے مشیر قانونی بھی تھے۔اور ۱۹۱۴ء میں اس کے ممبر بھی مقرر ہوئے تھے۔اور اپریل ۱۹۱۷ء میں قادیان میں ہجرت کر آئے۔اس بارہ میں محترم چوہدری صاحب آپ کے فرزند اکبر کی قلم سے پڑھیئے۔آپ لکھتے ہیں : پہلی دفعہ قادیان حاضر ہوئے تھے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی تھی کہ اگر حضور پسند فرمائیں، تو میں وکالت کی پریکٹس ترک کر کے اپنا تمام وقت دین کی خدمت میں صرف کروں۔لیکن حضور نے فرمایا کہ آپ پر ٹیکٹس جاری رکھیں۔اسی طرح حضور کے وصال کے بعد والد صاحب نے حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی تھی۔لیکن آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسے فرمایا تھا ویسے ہی کر لیں۔خلافت ثانیہ کا عہد شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ( ایدہ اللہ بنصرہ) نے والد صاحب سے فرمایا کہ آپ دین کی خدمت کے لئے اپنے تئیں کب وقف کریں گے۔والد صاحب نے عرض کی کہ میں تو حاضر ہوں۔جب حضور حکم دیں، وکالت ترک کر کے حضور کی خدمت میں آجاؤں۔چنانچہ آپ نے اپریل ۱۹۱۷ء میں وکالت کی پریکٹس ختم کر دی اور چند ماہ بعد قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔اب والدہ محترمہ کی رہائش زیادہ تر ڈسکہ میں رہنے لگی۔الده وزیر ہند، گورنر پنجاب اور وائسرائے ہند کی خدمت میں سپاس نامے: ۱۹۱۷ء میں ہندوستانیوں کا مطالبہ سیلف گورنمنٹ زور پکڑ جانے پر سیموئل مانٹیگو وزیر ہند ہندوستان آئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ پیش کرنا ضروری سمجھا۔چنانچہ احمدی وفد نے ۱۵ نومبر کو سپاسنامہ پیش کیا۔جو محمد ظفر اللہ خان صاحب نے پڑھا۔اس میں بتایا گیا کہ پڑھے لکھے طبقہ اور ان پڑھ طبقہ دونوں میں بے چینی ہے۔اور غیر معمولی اصلاحات کا ہندوستان محتاج ہے۔اور یہ درست نہیں کہ صرف ایک قلیل حصہ اصلاحات کا مطالبہ کر بقیہ حاشیہ: - ضلع سیالکوٹ پچیس ہزار روپیہ جمع کر دے گا۔ان بزرگوں کی اعلیٰ تعلیم کے باعث ہی میر صاحب و چو ہدری صاحب سے محرومی پر احباب سیالکوٹ نے اس قدر خلا محسوس کیا کہ اپنے آپ کو بے آسرا سمجھنے لگے۔۴۲