اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 52 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 52

52 642 جاتی تھیں۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی والدہ صاحبہ کے ایک رؤیا کے متعلق حضور کا یہی خیال تھا۔والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ طغیانی آگئی ہے اور گلی کوچوں میں پانی بہت سرعت سے چڑھ رہا ہے۔لوگ اپنے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے ہیں۔اتنے میں آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ ایک خرگوش پانی میں تیرتا پھرتا ہے، جو باتیں کرتا ہے۔پھر وہ خرگوش ہمارے مکان کے صحن میں آ گیا۔ایک لکڑی کے تختہ پر بیٹھا ہوا تھا۔اور وہ تختہ پانی میں تیرتا پھرتا تھا۔والدہ صاحبہ نے اوپر کی منزل سے اُسے مخاطب کر کے کہا : خواجہ کیا تم باتیں کرتے ہو ؟ خرگوش نے جواب دیا۔”ہاں۔والدہ صاحبہ نے کہا ”خواجہ دیکھو کہیں ڈوب نہ جانا۔خرگوش نے جواب دیا۔اگر میں ڈوب گیا تو کئی اور لوگوں کو ساتھ لے کر غرق ہونگا۔انہی ایام میں والدہ صاحبہ نے ایک رؤیا دیکھی کہ ایک وسیع میدان میں بہت سے لوگ جمع ہیں۔اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی انتظار میں ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد زمین سے ایک روشنی نمودار ہوئی جو بجلی کے ایک بہت روشن لیمپ کی صوررت میں تھی۔اور آہستہ آہستہ وہ زمین سے بلند ہونی شروع ہوئی۔اس طور پر کہ گویا اُس کے نیچے کوئی کل ہے۔جس کے زور سے وہ بلند ہو رہی ہے۔جو نہی یہ روشنی نمودار ہوئی۔اکثر لوگ اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔اور دوڑ کر اس سے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگے۔تا کہ اس نور کو قریب سے دیکھ سکیں۔والدہ صاحبہ بھی اس روشنی کی طرف بڑھیں۔اور والد صاحب کو آواز دی جلد آئیں اور قریب سے اس نور کو دیکھیں۔ورنہ یہ نور قدِ آدم سے اوپر چلا جائے گا۔تو اس کے دیکھنے کا لطف نہ رہے گا۔جوز میں کے قریب سے اسے دیکھنے میں ہے۔چنانچہ والد صاحب بھی والدہ صاحبہ کے پیچھے اس نور کی طرف جلد جلد بڑھنے لگے۔اور دونوں کے دیکھتے دیکھتے یہ نور بلند ہوتا گیا۔اور پھیلتا گیا۔حتی کہ آسمان تک بلند ہو گیا اور اس کی روشنی سے تمام میدان منور ہو گیا۔والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ بعض لوگ جو اوور کوٹ اور ترکی ٹوپیاں پہنے ہوئے ہیں۔کچھ فاصلہ پر ایک نہر کے کنارے کھڑے ہیں۔اور اس نور کی طرف ان کی التفات نہیں۔والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔اور کیوں اس روح افزاء نظارہ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔والد صاحب نے جواب دیا کہ یہ لوگ پانی کی روکو دیکھ رہے ہیں کہ کس طرف سے آتا ہے اور کس طرف کو جاتا ہے۔