اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 51 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 51

51 نے غور سے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مولوی نورالدین صاحب ہیں انہوں نے حلم سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔بتاؤ تمہیں کیا سزا دی جائے۔میں نے عرض کیا کہ آپ اب بادشاہ ہیں جیسے چاہیں تجویز کریں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا۔اچھا ہم تم کو جلا وطن کرتے ہیں۔اس کے تھوڑے عرصہ بعد حضرت صاحب کی وفات ہوگئی اور مولوی صاحب خلیفہ ہو گئے۔پھر دوسری دفعہ میں نے خواب دیکھا کہ ہم پھر گرفتار کئے گئے ہیں اور مثل سابق ہماری پیشی بادشاہ کے سامنے ہوئی۔اس دفعہ مولوی صاحب نے فرمایا تم نے دوبارہ بغاوت کی ہے۔ہم حکم دیتے ہیں کہ تمہارا سرکاٹ ڈالا جائے۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں مجھے ایک ایسے چبوترے پر لٹا دیا گیا۔جیسا اس تصویر میں تھا۔اور جلا د نے کلہاڑی میری گردن پر چلائی جس سے میں سخت خوفزدہ ہو کر بیدار ہو گیا۔اور بیدار ہو کر بھی بہت عرصہ اس خواب کی دہشت اور ہیبت مجھ پر طاری رہی۔اب جو میں نے وہی نظارہ تصویر میں دیکھا تو ویسے ہی میری طبیعت پر خوف طاری ہو گیا اور میں اس کی برداشت نہ کر سکا۔اختلاف کا علم ہونے پر میں نے خواجہ صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ اگر خلیفہ کی ضرورت نہیں تو آپ نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کیوں کی تھی۔انہوں نے کہا۔غلطی ہو گئی تھی۔میں نے کہا کہ پہلی بار کی غلطی کے بعد پھر آپ نے دوبارہ یہ غلطی کیوں کی ؟ خواجہ صاحب نے کچھ جھنجلا کر کہا۔جھک ماری تھی ! بعد میں انہوں نے غلطی کو بیعت تو بہ اور جھک“ کو بیعت ارشاد سے تعبیر کیا۔خواجہ صاحب کے ساتھ وقتاً فوقتاً جو گفتگو ان مسائل کے متعلق ہوتی رہی وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر میرے لئے جماعت کے اختلاف کے معاملہ میں بہت رہنمائی کا موجب ہوئی۔اور اختلاف کی تفصیل کا علم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیعت کی توفیق مل گئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔٢٩٤ آپ بیان فرماتے ہیں کہ والدین نے کیونکر بیعت کی : اس موقعہ پر بھی والدہ صاحبہ نے اپنے رویا اور خوابوں کی بناء پر فوراً بیعت کر لی۔والد صاحب نے چند دن کے توقف کے بعد بیعت کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ( ایدہ اللہ بنصرہ) نے کئی دفعہ فرمایا ہے کہ بعض دفعہ والدہ صاحبہ کے رویا کا اور حضور کے رویا کا تو ارد ہو جاتا تھا۔اللہ تعالی اپنے فضل سے والدہ صاحبہ کو بھی بعض باتیں اُسی رنگ میں دکھا دیتا تھا۔جس رنگ میں وہ حضور کو دکھائی