اصحاب احمد (جلد 11) — Page 53
53 وو والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے والد کی طرف سے جب اس موقعہ بیعت کرنے میں توقف ہوا تو مجھے سخت گھبراہٹ ہونے لگی۔میں بہت دُعائیں کیا کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”ہمارے مکان پر اُن دنوں بہت جمگھٹا لگا رہا کرتا تھا۔اور اختلاف کے متعلق بحث جاری رہا کرتی تھی۔ایک دن جب بہت سے لوگ جمع تھے۔اور زورشور سے بحث جاری تھی۔یہاں تک کہ بعض لوگوں کی آواز میں دوسری منزل پر بھی پہنچ جاتی تھیں۔میری طبیعت میں بہت قلق پید ا ہوا کہ تمہارے والد کیوں جلد فیصلہ نہیں کرتے اور کیوں اس قدر لمبی بحث میں پڑ رہے ہیں۔اور اسی جوش میں میں نے سیڑھیوں کے دروازے کو بہت زور سے کھٹکھٹایا۔جس سے تمہارے والد کو ادھر توجہ ہوئی۔اور وہ جلدی اور گھبراہٹ میں اوپر آئے اور بہت تشویش میں دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے۔آپ نے اتنے زور سے دروازہ کیوں کھٹکھٹایا ؟ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کے تعامل سے بہت گھبرا گئی ہوں۔اور میں چاہتی ہوں کہ آپ جلد بیعت کرنے کا فیصلہ کریں اور ان بحثوں کو بند کریں۔اور منکرین خلافت کو کہہ دیں کہ وہ بحث مباحثہ کے لئے یہاں نہ آیا کریں۔اُنہوں نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی کہ میں غور کر رہا ہوں۔عنقریب کوئی فیصلہ کروں گا۔لیکن مجھے تسلی کہاں ہوتی تھی۔ہر لحظہ جو اس حالت میں گذرتا۔مجھے پہاڑ کی طرح بوجھل معلوم ہوتا تھا۔اسی طرح چند دن اور گزر گئے۔میں دُعاؤں میں لگی رہی۔اور اپنی توفیق کے مطابق تمہارے والد کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتی رہی۔وہ بس مسکرا دیتے اور اتنا کہہ دیتے کہ غور کر رہا ہوں۔میں پھر دُعاؤں میں لگ جاتی۔آخر ایک روز عشاء کی نماز کے بعد اُنہوں نے کہا۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مجھے بیعت کر لینی چاہیئے۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے لئے تمام دنیا روشن ہو گئی ہے۔میں نے فوراً اللہ تعالیٰ کا شکرا دا کیا اور اُن سے کہا کہ آپ ابھی خط لکھ دیں۔انہوں نے کہا۔ڈاک تو اب کل صبح ہی جائے گی۔صبح خط لکھ دیں گے۔میں نے منت کی کہ ابھی لکھ دیں۔میر نہ کر یں۔انہوں نے کہا کہ کیا خط کو سینہ پر رکھ کر سونا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ اصل بات تو یہی ہے۔میں یہ تمام را تیں سو نہیں سکی۔میں چاہتی ہوں کہ آپ بیعت کا خط لکھ دیں اور میں اُسے اپنے سینہ پر رکھ لوں اور اطمینان کی نیند سو سکوں۔چنانچہ اُنہوں نے اُسی وقت خط لکھ کر مجھے دے دیا۔اور میں نے اسے سینہ پر رکھ لیا اور سوگئی