اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 332 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 332

332 الگ الگ ہیں جنہیں تسلیم کرنے پر ہی اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔سیاسی امور میں مسلمان اتحاد کریں۔بے شک تبلیغی نظام قائم کیا جائے۔لیکن ہر فرقہ کیلئے الگ الگ علاقہ مقرر کر دیا جائے۔جہاں ہر فرقہ غیر مسلموں بالخصوص اچھوت کہلانے والوں میں اپنی مخصوص عقائد کے مطابق تبلیغ کرنے میں آزاد ہو۔ہندومسلم تعلقات کے متعلق بھی نہایت پیش قیمت نصائح فرمائے۔جن پر بعد میں مسلم رہنماؤں نے عمل کیا۔اس میں علیحدہ حق نیابت اور ملازمتوں میں علیحدہ نسبتی حق طلب کرنے پر زور دیا گیا تھا۔( الفضل ۱۹۲۵۔۷ - ۱۸) حضور نے اپنی طرف سے سات نمائندگان بشمول محترم چوہدری صاحب کا نفرنس میں شرکت کے لئے بھجوائے (ص ازیہ مدینہ اسی ) علماء دیوبند ، جمعیۃ العلماء اور امرتسری مولویوں نے احمدیوں کی کانفرنس میں میں شرکت سے انکار کر دیا۔۱۳۸ جمعیۃ علماء ہند نے اس بارہ میں باقاعدہ فیصلہ بھی کیا۔بھلا ایسے حالات میں اتحاد مسلم کا خواب کیونکر شرمندہ تعبیر ہوسکتا تھا۔اور یہ اقتدار کی بھو کی جمعیتیں بھلا کب اتحاد المسلمین اور اشاعت اسلام کی خواہاں ہوتی ہیں ؟ سچ ہے ، دِينُ مُلَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسَادِ آپ کا اسوہ حسنہ آپ کا اُسوہ حسنہ اور اق سابقہ سے ظاہر ہے۔تاہم بعض امور کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے محترم محمد عثمان صاحب لکھنوی تحریر کرتے ہیں کہ جناب چوہدری صاحب نے مجھے اطلاع دی کہ کلکتہ جاتے ہوئے چند گھنٹے لکھنو میں قیام کرینگے۔چنانچہ میرے ہاں آپ نے چائے نوش فرمائی۔( مشہور ادیب ) جناب شوکت تھانوی صاحب اور جناب مولوی محمد یوسف علی صاحب انصاری تحصیلدار پر جو اس موقعہ پر موجود تھے ، آپکی سادگی اور ایک غریب احمدی کے ہاں چلا آنے کا بہت اثر ہوا۔اور انکو حیرت تھی۔آیا احمدیت ایسی کایا پلٹ دیتی ہے اور ایسی اخوت پیدا کر دیتی ہے۔اس طرح آپ ایک خاص رنگ میں تبلیغ کر گئے اور احمدیت کا ایک خاص اثر چھوڑ گئے۔( الفضل ۱۹۳۳-۲-۹) جناب سردار اقبال سنگھ صاحب ساہی بی۔اے ہیڈ ماسٹر بٹالہ نے خاکسار مؤلف سے ذکر کیا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی وکالت کے زمانہ میں محض مشورہ کی کوئی فیس نہ لینے تھے۔فیس مقدمہ لینے پر لیتے تھے۔اور جب آپ کے والد ماجد چوہدری نصر اللہ خان صاحب نے وفات پائی تو