اصحاب احمد (جلد 11) — Page 331
331 ۱۹۴۶ء میں قائد اعظم کی طرف سے آپ ریڈ کلف کمیشن کے سامنے مسلمانوں کا کیس پیش کرنے کے لئے مامور ہوئے۔جو افراد کمیشن کے ارکان کی حیثیت سے حج بنا کر بٹھائے گئے تھے وہ با عتبار تجربه و صلاحیت آپ کے مقابلہ میں طفلان مکتب سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے۔آپ نے ملت کی وکالت کا حق ادا کیا۔اور چار دن تک مسلمانوں کی طرف سے نہایت مدلل ، نہایت فاضلانہ اور نہایت معقول بحث کی۔جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ آپ نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا ، اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ ان کی طرف سے حق وانصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریق سے ارباب اختیار تک پہنچادی گئی ہے پنجاب کے سارے مسلمان ان کی اس خدمت کے معترف اور شکر گزار ہیں۔پاکستان کے سابق چیف جسٹس محمد منیر جو اس وقت وزیر قانون ہیں ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت کے صدر تھے۔وہ فیصلہ میں باؤنڈری کمیشن کے تعلق میں رقم فرماتے ہیں : عدالت ہذا کا صدر جو اس کمیشن کا ممبر تھا۔اس بہادرانہ جد و جہد پر تشکر وامتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔جو چوہدری محمد ظفراللہ خاں نے گورداسپور کے معاملہ میں کی تھی۔یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن کے کاغذات میں ظاہر وباہر ہے۔اور جس شخص کو اس مسئلے سے دلچسپی ہو۔وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات سرانجام دیں۔ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالت تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے۔وہ شرمناک ناشکرے پن کا ثبوت ہے۔۱۲۔آل انڈیا پارٹیز کانفرنس میں شمولیت: آل انڈیا پارٹیز کانفرنس نے امرتسر میں اپنے اجلاس میں شمولیت کیلئے حضرت امام جماعت احمدیہ کو بھی دعوت نامہ ارسال کیا حضور نے کانفرنس کے پروگرام کے متعلق نہایت بیش قیمت مشورے دیئے۔اور بتایا کہ کن خطوط پر مسلمانوں کے فرقوں میں اور ہندو مسلمانوں میں مذہبی تعریفیں