اصحاب احمد (جلد 11) — Page 333
333 چوہدری صاحب نے علاقہ کے لوگوں کو یہ پیشکش کر دی تھی کہ والد صاحب نے جس جس شخص۔اراضی خرید کی تھی اور اب وہ اسکی فروخت کے باعث تکلیف محسوس کرتے ہوں تو بے شک رقم واپس کر کے اراضی واپس لے لیں۔یہ بھی بتایا کہ احمد یہ جماعت کے افرا د رشوت نہیں لیتے اور چوہدری صاحب کا یہ حال تھا کہ جب آپ حکومت ہند میں ریلوے ممبر تھے تو جب کبھی اپنی برادری کے علاقہ کی طرف آنا ہوتا جو شاہدرہ سے نارووال تک آباد تھی۔تو یہ لوگ کثرت سے ملاقات کے لئے آتے آپ ان کو کہتے کہ ٹکٹ خرید کر گاڑی میں سوار ہوں۔ہند و روز نامہ ملاپ “ لاہور نے لکھا کہ چوہدری صاحب کا استقبال کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر صدر پنجاب کونسل چوہدری سر شہاب الدین ، سر عبدالقادر حج ہائی کورٹ۔اور سردار سکندر حیات خان ریو نیومنسٹر حکومت پنجاب جیسے معززین آئے۔یہ سب صاحبان چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے استقبال کیلئے جمع ہوئے تھے۔چوہدری صاحب لنڈن سے آرہے تھے مگر گاڑی گورداسپور سے آرہی تھی۔حیرت ہوئی کہ آخر گورداسپور کی گاڑی میں آنے کا کیا مطلب؟ معلوم ہوا کہ آپ پنجاب میں قدم رکھنے کے بعد اپنے خولیش وا قارب کو ملنے سے پہلے اپنے پیرو مرشد خلیفہ ، قادیان کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔۔۔مسلمان اپنے مذہب کا کتنا پابند ہے۔۔۔اسی اخبار نے مزید لکھا کہ ہندو لیڈر جتنا بڑا ہوتا جائیگا۔اتنا زیادہ آزاد خیال حتی کہ دہریہ ہو جائیگا۔گول میز کانفرنس کے موقعہ پر کوئی ہندو لیڈ روید اپنے ساتھ نہیں لے گیا۔لیکن ہر مسلم لیڈر قرآن مجید لے کر گیا۔اور ہر روز اس کا مطالعہ کرتا رہا۔۔۔۔اور مزید لکھتا ہے: اس سے بھی بڑھ کر ہندو لیڈر واپس آئے اور اپنی اپنی کوٹھیوں میں چلے گئے لیکن ان ہندو لیڈروں کے لئے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک شمع ہدایت دکھلائی ہے۔۔۔کہ قوت ایمان اور اپنے مذہب کی محبت ہی اونچا اور بلند کرنے کی طاقت رکھتی ہے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب۔۔۔۔۔جہاز سے اترے اور ایک دن دہلی رہ کر وہاں سے سید ھے۔۔۔قادیان جا پہنچے سردار صاحب ۱۹۱۵ء سے ۱۹۴۸ء تک خالصہ ہائی سکول نارووال ( ضلع سیالکوٹ ) کے ہیڈ ماسٹر اور مینجر رہے اور ۱۹۵۷ء سے اس وقت تک گورو نانک نارووال ہائی سکول بٹالہ کے ہیڈ ماسٹر اور مینجر ہیں۔