اصحاب احمد (جلد 11) — Page 315
315 اول۔دونوں قومیں اقرار کریں کہ اگر کسی قوم کی طرف سے دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے متعلق دل آزار کتاب لکھی گئی تو تمام تر ذمہ واری اس قوم پر ہوگی۔اور ایسی کتاب جلا دی جائے گی اور مصنف کا مکمل مقاطعہ کر کے اسے مجلسی تعلقات ، رشتہ ناطہ وغیرہ سے محروم رکھا جائے گا اور جو ایسا مقاطعہ نہ کرے گا اس سے بھی ایسا مقاطعہ کیا جائے گا۔یا ایک مقررہ رقم بطور تاوان دی جائے گی۔دوم۔ہندو مسلمان سے بحیثیت قوم چھوت چھات ترک کر دیں۔اس چھوت چھات کے نتیجہ میں ہندوؤں نے ساری دولت سمیٹ لی ہے۔سوم۔مسلمانوں کو اپنی آبادی کے مطابق حصول حقوق میں ہندو روک نہ بنیں۔ورنہ مسلمان چوہڑوں سے بھی زیادہ تباہ اور ذلیل ہو جائیں گے ابھی ایک سوسال قبل مسلمان بادشاہ تھے اور اتنے قلیل عرصہ میں وہ ہندوؤں کے دست نگر ہو گئے ہیں۔(الفضل ۲۷ - ۸-۳۰) اگست ۱۹۲۷ء میں حضرت امام جماعت احمد یہ شملہ تشریف لے گئے تو مسودہ قانون مذکورہ کے تعلق میں نہ صرف ہندو رہنما (مثلاً مہاراشٹر پارٹی کے لیڈر مسٹرکلکر ) بلکہ مسلمان رہنما قائد اعظم محمد علی جناح ( سر ) مولوی محمد یعقوب (ڈپٹی پریذیڈنٹ اسمبلی ) صاحبزادہ عبدالقیوم (وزیر اعظم صوبہ سرحد)، خان محمد نواز خان ، مولانا محمد شفیع داؤدی و غیر ہم آپ کی فرودگاہ پر آکر ملتے رہے اور آپ کے مسودہ کی تعریف و تائید کی۔ہندوستان ٹائمنز جیسے اخبار نے اسے اہم اور ضروری قرار دیا۔پنڈت مدن موہن مالویہ نے اصولی طور پر اتفاق ظاہر کیا۔مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر انصاری ، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور چوہدری فضل حق خاں ( بعد ہ احراری لیڈر ) نے بھی ہندو مسلم اتحاد کے تعلق میں دلچسپی لی۔قائد اعظم ، سر عبدالقیوم ، سر عمر حیات خاں ٹوانہ، سر ذوالفقار علی خاں، پنڈت مدن موہن مالویہ، ڈاکٹر مونجے ، لالہ لاجپت رائے ،سری نواس آئنگر اور پنڈت نیکی رام وغیرہ شامل ہوئے۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے اتحاد کے صحیح طریق پر تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت پر زور دیا۔ہندو مسلم زعماء کے الگ اور مشترکہ اجلاس ہوئے۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے ہند و مسلم اتحاد کیلئے مندرجہ ذیل امور پیش کئے : (۱) ہر جماعت کو تبلیغ کی آزادی ہو لیکن ناجائز ذرائع استعمال نہ کئے جائیں۔(۲) بانیان مذاہب کی ہتک کرنے والے سزا کے ماتحت قبل ازیں جو تجویز درج ہو چکی ہے۔بیان