اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 314 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 314

314 سوم۔بسا اوقات جوابی کتاب پر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔لیکن جس نے حملہ کی ابتداء کی ہوتی ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔یہ ترمیم ضروری ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک مقدمہ نہ چلایا جائے جب تک اصل کتاب لکھنے والے پر ( بشر طیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو ) مقدمہ نہ چلایا جائے۔چہارم۔اس وقت اگر ایک صوبہ میں کوئی ایسی کتاب ضبط ہو تو دیگر صوبہ جات میں اسے شائع کیا جا سکتا ہے۔ایسی ترمیم ضروری ہے کہ ایسی کتاب ایک صوبہ میں ضبط ہو۔تو دیگر صوبہ جات بھی قانو نا اس کتاب کی اشاعت و طباعت پر پابندی لگائیں۔( الفضل ۲۷-۸-۱۹) فیصلہ ورتمان پر ہندو بہت سیخ پا ہوئے اور ہندو اخبارات نے چیف جسٹس وغیرہ پر کھلے بندوں الزام لگایا کہ مسلمانوں کی ایجی ٹیشن سے ڈر کر فیصلہ کیا گیا ہے۔الفضل نے حکومت کو لکھا کہ کیوں ایسے اخبارات پر بہتک عدالت کا مقدمہ نہیں چلایا جاتا۔اگر نہیں چلانا تو مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر وغیرہ کو فوراً رہا کر دینا چاہیے۔جنہوں نے ہندو اخبارات سے بہت کم لکھا تھا اور عدالت عالیہ کے ڈویثرن بینچ نے جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی تغلیط بھی کر دی ہے۔(۲۷ - ۸-۲۳) حضرت امام جماعت احمدیہ نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ ممکن ہے ہند و صلح کی طرف جھکیں اس لئے ابھی سے یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے۔بغیر تدبر کئے کہ یہ صلح حقیقی ہے یا نہیں۔صلح کر لینا کم ہمتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نظیر کی صلح پر آمادگی اس شرط پر قبول کی کہ وہ چند دن میں قلعے خالی کر دیں۔کیونکہ ان کی شرارت کسی وقتی جوش کے نتیجہ میں نہ تھی بلکہ وہ متواتر غداری اور خفیہ سازشوں وغیرہ کے مرتکب ہو رہے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ موقعہ نہیں دیا کہ وہ بغل میں بیٹھے رہیں اور موقعہ ملنے پر چھری چلاتے رہیں۔ہندوؤں کی طرف سے براہین احمدیہ کے زمانہ سے بھی پہلے ورتمان کی قسم کی کتابیں نکلتی رہی ہیں۔پھر لاہور میں ایک جلسہ میں حضرت مسیح موعود سے آریوں نے باصرار مضمون منگوایا اور اپنے وعدہ کا بھی پاس نہ کیا اور دل آزار گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں۔رولٹ ایکٹ کے بعد یہ جھگڑا ختم ہو گیا اور سیاسی اشتراک کی بناء پر ان باتوں کو نظر انداز کر کے مسلمان ہندو ایک دوسرے کو بھائی بھائی کہنے لگے۔اسکے بعد پھر شدھی کی تحریک میں آریوں نے دل آزار کتب شائع کر کے پہل کی۔اسلئے مصالحت کے وقت صرف زبانی صلح بے حقیقت ہوگی۔بلکہ ذیل کی تین شرائط مناسب ہونگی۔