اصحاب احمد (جلد 11) — Page 305
305 حالات کی اصلاح کرائیں۔جن کی وجہ سے ایسی ہتک آمیز تحریرات لکھنے والے بری کئے گئے۔اور بقیہ حاشیہ: - سے کیسے سرزد ہوئی۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔ایسا کمیشن کیسے قائم ہو سکتا ہے اور وہ کون سی وجوہات معلوم کر سکتا ہے؟ چوہدری ظفر اللہ خاں :۔ایسے سوالات کا جواب دینے میں اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ میں ایک قانون دان کے نقطہ نظر کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کر رہا ہوں بلکہ ایک عام شہری کے نقطہ نظر کو پیش کرتا ہوں۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔اس مضمون سے تو ظاہر ہے کہ اس کا مصنف اپنے تئیں قانون دان خیال کرتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔اور اسی مضمون سے اس کی قانونی لیاقت کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔مثلاً وہ کہتا ہے کہ فاضل جج کو واقعاتی امور میں اور ماتحت عدالتوں کی تجاویز سے اختلاف نہیں کرنا چاہیئے تھا۔حالانکہ مقدمہ کے واقعات مسلمہ ہیں اور واقعاتی تجاویز کے ساتھ فاضل جج نے اپنا اتفاق ظاہر کیا ہے۔اختلاف صرف قانون کی تعبیر کے متعلق ہے۔بہر حال مضمون کا مصنف قانون دان نہیں ہے۔اس لئے مجھے اس کے خیالات یا اس کے ذہنی نقشہ کو عدالت میں پیش کرتے وقت اس کی حیثیت کو مد نظر رکھنا پڑے گا۔اور ساتھ ہی ایک ایسی فرضی حالت کے متعلق بحث کرنی پڑے گی ، جو واقعہ میں ظہور پذیر نہیں ہو سکتی۔یعنی یہ کہ تحقیقاتی کمیشن کیسے بیٹھتا اور کن امور کی تحقیقات کرتا۔قانونی طور پر تو ہم جانتے ہیں، کہ ہائی کورٹوں کے فیصلوں پر تحقیقاتی کمیشن نہیں بیٹھا کرتے۔اس لئے میں اس ضابطہ کی تشریح تو نہیں کر سکتا جس کے مطابق کمیشن بٹھایا جائے۔نہ یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ بیان کروں کہ ایک عام شہری کے ایسے مطالبہ سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔مسٹر جسٹس براڈوے میں ایسی تعبیر سننے کا مشتاق ہوں جس سے یہ یقین ہو سکے کہ مصنف کی مراد اس جملہ سے حج کی نیت پر حملہ کرنا نہیں تھی۔اگر ضرورت ہو تو میں کھینچ تان کر بھی ایسی تعبیر کا فائدہ ملزمان کو دینے کے لئے تیار ہوں۔بشر طیکہ تعبیر معقول ہو، اور تعبیر کے عام اصولوں کے مطابق ہو۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔مصنف کی یہ مراد ہو سکتی ہے کہ اگر تحقیقات کی جائے تو ممکن ہے کوئی ایسے وجوہات ظاہر ہوں جیسے یہ کہ سرکار کی طرف سے مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے سامنے رنگیلا رسول کتاب والے مقدمہ میں پورے طورر بحث نہیں کی گئی اور فاضل حج کی تشفی نہیں کی گئی کہ جو تعبیر دفعہ