اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 306 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 306

306 یہ بھی ذکر کیا کہ چونکہ پریوی کونسل میں صرف بریت یا تخفیف سزا کی خاطرا پیل ہو سکتی ہے نہ کہ سزا کی بقیہ حاشیہ: ۱۵۳ الف تعزیرات ہند کی وہ کرنا چاہتے ہیں وہ غلط ہے۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔کیا یہ معقول تعبیر اس فقرہ کی ہو سکتی ہے؟ اور آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس فقرہ سے یہی مراد تھی۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس فقرہ کی یہ بھی تعبیر ہوسکتی ہے اور اس سے یہ بھی مراد لی جاسکتی ہے ، جیسے میں نے پہلے بیان کیا ہے۔ہوسکتا ہے کہ ایک فقرہ کی مختلف تعبیریں کی جاسکیں۔جن میں سے بعض قابل اعتراض ہوں اور بعض پر کوئی اعتراض نہ ہو سکے۔یہی حالت فقرہ زیر غور کی ہے۔ایسی صورت میں عدالت کے لئے لازم ہے کہ وہ قابلِ اعتراض تعبیر کو اختیار نہ کرے۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔جب آپ نے یہ مضمون پڑھا، تو اس سے کیا مراد لی تھی ؟ چوہدری ظفر اللہ خاں : جب میں نے یہ مضمون پڑھا، تو نہ تو میری طبیعت میں یہ بات آئی کہ اس فقرہ سے مراد یہ ہے کہ جج نے کسی بیرونی اثر کے ماتحت یہ فیصلہ لکھا ہے اور نہ یہ بات میرے ذہن میں آئی ، کہ اس سے یہ مراد کہ ممکن ہے ، مقدمہ کی بحث میں کوئی بجھی رہ گئی ہو میں نے سرسری طور پر اس مضمون کو پڑھا۔میں جانتا تھا کہ فیصلوں پر تحقیقاتی کمیشن نہیں بیٹھا کرتے اس لئے میں نے اس فقرہ کو بے معنی تصور کیا۔پھر اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ فاضل جج نے وکلاء کی بحث کو پورے طور پر نہیں سمجھا۔یا یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ فاضل جج کی غلطی اس امر میں تھی کہ جب انہوں نے قرار دیا کہ رنگیلا رسول ایک دل آزار گندی کتاب ہے جس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی زندگی پر بوجہ کینہ و دشمنی حملے کئے گئے ہیں۔اور اس امر کا بھی اظہار کیا کہ وہ بوجہ اس تعبیر کے جوان کے نزدیک دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند کی صحیح تعبیر ہے ، اس فیصلہ پر پہنچنے پر خوشی سے نہیں بلکہ بادل نخواستہ مجبور ہیں۔اور وہ یہ بھی محسوس کرتے تھے ، جیسا کہ انہیں محسوس ہونا چاہیئے تھا، کہ اس فیصلہ کے بہت وسیع اور خطرناک نتائج ہوں گے۔تو انہیں چاہیئے تھا کہ اس فیصلہ کی ذمہ واری وہ اکیلے اپنے کندھوں پر نہ اٹھاتے۔بلکہ اس مقدمہ کو دو جوں کے پاس فیصلہ کے لئے بھیج دیتے۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔اس تعبیر سے تو اور بھی کام خراب ہوتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔اس سے مراد حج کی نیت پر کوئی حملہ نہیں۔ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ معمولی