اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 300 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 300

300 احمدی مسلمان ہندو جاتی کو بدنام اور تباہ و برباد کرنے کے لئے جو بقیہ حاشیہ: - تعزیرات ہند کی دفعات میں ایسی ترمیم ضروری ہے جس کے نتیجہ میں رنگیلا رسول جیسی کتابوں کے لکھنے اور شائع کرنے والے قانون کے شکنجے میں لائے جاسکیں۔مسلم آؤٹ لک کا مضمون جو زیر بحث ہے، مسٹر جسٹس کے اس فیصلہ پر تنقید کرتا ہے۔لیکن اس مضمون میں اس فیصلہ کے متعلق ایسے ریمارکس کئے گئے ہیں اور ایسے کنا یہ موجود ہیں ، جن کے متعلق ایک پڑھنے والے کو حیرت ہوتی ہے کہ مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کے متعلق ایسی باتیں کیونکر منسوب کی گئیں۔مضمون کے پہلے فقرہ میں دو مطالبات کئے گئے ہیں۔اول یہ کہ مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ ہائی کورٹ کی حجی سے استعفیٰ دیں۔اور دوسرے یہ کہ اس امر کے متعلق تحقیقات کی جائے کہ یہ غیر معمولی فیصلہ کن غیر معمولی حالات کے ماتحت لکھا گیا۔میں درمیانی حصہ مضمون کو ترک کرتا ہوں۔کیونکہ وہ کم و بیش تنقید کا رنگ رکھتا ہے۔اور اس حصہ میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کا فیصلہ غلط ہے۔میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی فیصلہ کو غلط یا خلاف قانون قرار دے چنانچہ ہم لوگ جو قانون پیشہ ہیں۔ہر روز مختلف عدالتوں کے فیصلہ جات کے متعلق یہ بحث کرتے رہتے ہیں کہ فلاں فیصلہ غلط ہے یا خلاف قانون ہے۔اس امر پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا، لیکن مضمون زیر بحث کے آخری سے پہلے فقرہ میں فاضل جج سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیشتر اس کے کہ حکومت انہیں جی سے علیحدہ کر دے۔انہیں خود بخو داس رسوائی سے بچنے کے لئے استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔میں یہ عرض کروں گا کہ اس فقرہ میں خود فاضل جج کی تو کوئی تو ہین ہو یا نہ ہو لیکن اس عدالت کی بحیثیت مجموعی ضرور تو ہین ہے۔اس امر کا فیصلہ میں عدالت ہی پر چھوڑتا ہوں۔لیکن اس مضمون کا آخری فقرہ عدالت کی سخت توہین کرتا ہے۔اس فقرہ کے ابتدائی جملے تو میں سمجھ نہیں سکا۔لیکن آخری جملے یہ ہیں ” ہمیں نیک نیتی سے یقین ہے کہ فاضل جج کی اس غیر معمولی لغزش کے کوئی غیر معمولی اسباب ہیں۔اگر ایسا ہے ، تو ان اسباب کو روزِ روشن میں لانا ایک پبلک فرض ہے۔گویا اس فقرہ میں یہ مفہوم مرکوز ہے کہ یہ فیصلہ دیانتداری سے جوڈیشل وجوہات کی بناء پر صادر نہیں کیا گیا ، بلکہ اس کی وجوہات غیر جوڈیشنل ہیں۔لکھنے والے کی مراد صرف یہی نہیں کہ فیصلہ غلط ہے بلکہ اس کے