اصحاب احمد (جلد 11) — Page 299
299 کا علم ہوتا ہے۔وہ لکھتا ہے : بقیہ حاشیہ:۔مسٹر جسٹس براڈوے: ممکن ہے کہ اس عرصہ میں ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہ آیا ہو۔چوہدری ظفر اللہ خاں :۔بہر صورت یہ مسلمہ ہے کہ یہ اختیارات صرف کورٹ آف ریکارڈ کو حاصل ہیں اور چیف کورٹ کورٹ آف ریکارڈ نہیں تھی۔اس لئے چیف کورٹ کو یہ اختیارات حاصل نہیں تھے۔اس مرحلہ پر جسٹس براڈوے نے اپنے شریک جوں سے اشارۃ ان کا مفہوم حاصل کر کے یہ الفاظ کہے۔ہم قرار دیتے ہیں کہ ہمیں اس معاملہ میں اختیارات حاصل ہیں۔اگر ضرورت ہوئی تو اس قرارداد کے وجوہات ہم اپنے فیصلہ میں بیان کر دیں گے۔اس کے بعد اصل مسئلہ کے متعلق کا رروائی شروع ہوئی۔اور مسٹر کا رڈن نو ڈ وکیل سرکار نے اپنی تقریر شروع کی۔مقدمہ توہین عدالت پر وکیل سرکار کی تقریر مسٹرنوڈ :۔یہ کارروائی اخبار مسلم آؤٹ لک کے ۱۴ جون کے پرچہ میں صفحہ ۳ پر جو مضمون مستعفی ہو جاؤ کی سرخی کے ماتحت چھپا ہے، اس کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔مگر میں نے ایک تحریری بیان اس عدالت میں پیش کیا ہے۔لیکن یہ بیان ان الزامات کا ازالہ نہیں کرتا ، جو ملزمان پر مضمون زیر بحث کے نتیجہ میں عائد ہوتے ہیں۔جہاں تک واقعات کا تعلق ہے ملزمان نے اپنے تحریری بیان میں انہیں درست طور پر بیان کیا ہے۔مختصر واقعہ یوں ہے کہ رنگیلا رسول کی نگرانی کا فیصلہ کرتے ہوئے مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ نے اس کتاب کے مصنف سے کھلے طور پر نفرت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے صاف طور پر قرار دیا ہے کہ یہ کتاب گندی اور دل آزار ہے، اور پیغمبر اسلام کی ذات پر اس میں سفیہا نہ اور پاجیانہ حملے کئے گئے ہیں۔انہوں نے قرار دیا ہے کہ یہ کتاب کینہ وری سے لکھی گئی ہے۔لیکن دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند کے الفاظ کی تعبیر کرنے میں وہ قانو نا اس امر پر مجبور ہوئے ہیں کہ وہ قرار دیں کہ یہ کتاب دفعہ مذکورہ کی زد میں نہیں آتی۔اس فیصلہ پر پہنچنے میں انہوں نے اپنی معذوری کا اظہار کیا ہے۔اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ