اصحاب احمد (جلد 11) — Page 278
278 بعض مقدمات کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے: (۱) مقدمہ مونگھیر۔جماعت احمد یہ مونگھیر نے سب آرڈینیٹ حج مونگھیر کی عدالت میں ایک دعویٰ دائر کیا کہ غیر احمدیوں کے نام حکم امتناعی جاری کیا جائے کہ وہ احمدیوں کو مساجد میں نمازوں کی ادائیگی سے نہ روکیں۔غیر احمد یوں نے کہا کہ احمدی کا فر ہیں۔اس لئے انہیں مساجد میں داخلہ کی اب اس بارہ میں غیر مبائعین کے اخبار پیغام صلح میں مرقوم ہے : ” پنجاب میں بھی آپ کی قانونی قابلیت اور فصیح بیانی مسلم ہے۔جماعت احمدیہ کے بعض نہایت سنجیدہ مقدمات میں اپنے نہایت قابلیت سے کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔چنانچہ مدراس ، امرتسر ، گوجرانوالہ کے مقدمات اس پر شاہد ہیں۔گذشتہ دنوں میں جب امرتسر کی شور وشر میں مسلمان گرفتار کئے گئے تھے۔تو چوہدری صاحب ان کے مقدمات کی پیروی کے لئے جاتے رہے اور ان کی مدد کر تے رہے مشہور ومعروف قانونی رسالہ کے فرائض ادارت بھی نہایت خوش اسلوبی اور قابلیت سے انجام دے چکے ہیں۔غرض کیا بلحاظ اخلاق اور شریفانہ سیرت کے اور کیا بلحاظ علمی قابلیت اور قانونی مہارت کے، آپ وائسرائے کی کونسل کی ممبری کے لئے بالکل مناسب و موزوں ہیں۔اگر چہ مالی لحاظ سے آپ کو اس سے نقصان ہی ہوگا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ آپ ملک اور مسلمانوں کی بہترین خدمات بجالا سکیں گے۔جن کے آپ ہر طرح اہل ہیں۔اس لئے سب مسلمان بھجوائے آیت کریمہ تُؤَدُّوا الْاَ مُنْتِ إِلَى أَهْلِهَا آپ کی کامیابی کی کوشش کریں۔( بحوالہ الحکم ۲۸/۱۰/۲۳) محترم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل (امیر جماعت قادیان ) نے بتایا کہ کمشنر کی نیت یہ تھی کہ وہاں سکھ ہی سکھ جمع ہوں گے وہ تصویر اتارلے گا، اور ثابت کر دے گا کہ علاقہ تو سکھوں کا ہے اس لئے قادیان میں مذیب نہیں ہونا چاہیئے۔مرکز سے اردگرد کے دیہات میں اطلاعات بھجوائی گئی تھیں تا مسلمان کثرت سے پہنچیں اور مجھے بھی فیض اللہ چک وغیرہ مواضعات میں مسلمانوں کو لانے کے لئے بھجوایا گیا تھا۔اتفاق یہ ہوا کہ وہ دن متیا کا تھا اور علاقہ کے سکھ اشنان کے لئے بٹالہ کے قریب مواضع اچل گئے ہوئے تھے۔اس لئے پنجگرائیں کے بنگلہ میں مسلمان ہی مسلمان نظر آتے تھے۔