اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 266 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 266

266 (۷) آپ نے ۲۶ نومبر ۱۹۵۱ ء ک پیرس میں مجلس اقوام متحدہ کی پہلی کمیٹی میں نہایت جرات سے مجلس اقوام کو اس کے قول و فعل کے تضاد کی طرف توجہ دلائی اور ان تمام کمیٹیوں اور کانفرنسوں کا ذکر کیا جو تخفیف اسلحہ اور قیام امن کی غرض سے قائم کی جا چکی ہیں۔لیکن دنیا کا امن پہلے سے بھی زیادہ خطرہ میں ہے۔اور قو میں ایسے آلات پیدا کرنے میں مصروف ہیں ، جو مصیبت اور ہلاکت و تباہی کے غار میں دھکیل دیں گے۔آپ نے بین لاقوامی ڈپلومیسی کے چہرے سے نقاب اٹھا کر بتایا کہ: ” ہم آزادی کا اعلان کرتے ہیں۔لیکن ہمارا عمل دوسروں کو غلام بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ہم مساوات کا وعظ کہتے ہیں لیکن امتیاز و تفاوت پر عمل کرتے ہیں۔ہم اخوت کا اعلان کرتے ہیں۔لیکن ہمارا با ہم سلوک سوتیلے بھائیوں کا سا ہے۔ہم زبان سے رواداری پکارتے ہیں لیکن ہمارا عمل تعصب اور غیر رواداری پر مبنی ہے۔ہم آزادی اطلاعات کا دعوی کرتے ہیں لیکن دنیا کے تاریک گوشوں میں روشنی کا داخلہ روک رہے ہیں۔ہم حقوق انسانی کے بلند بانگ اعلانوں کے مسودے تیار کرتے ہیں۔لیکن انسانوں کی غلامی ومحکومی اور استیصال کو نہ صرف روا رکھتے ہیں بلکہ ان ناپاک افعال کے معاون بن جاتے ہیں۔وو 66 آپ نے یہ بھی کہا کہ بڑے بڑے ریزولیوشن کسی کام کے نہیں۔ان کی قیمت پرو پیگنڈا کے سوا کچھ نہیں اور پرو پیگنڈا اس تباہی سے ہرگز نہ بچا سکے گا جس کے راستے پر ہم گامزن ہو چکے ہیں جب تک ہم دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو دیکھیں گے لیکن اپنی آنکھ کے شہتیر کو نظر انداز کرتے رہیں گے ہم دنیا کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔آپ نے قرآن مجید کی آیات پڑھ کر بتایا کہ دنیا میں نافرمانوں کا کیا انجام ہوا کرتا ہے اور ہماری دنیا کو وہی انجام در پیش ہے۔البتہ اگر ہم اقوال و افعال میں مطابقت پیدا کریں تو ہم دنیا کو امن اور خوشحالی سے مالا مال کر سکتے ہیں۔( الفضل ۴ /جنوری ۱۹۵۲ء (ص۲) یہ اندازہ ہوتا ہے کہ چوہدری صاحب نے یا تو ابتداء میں کوئی تبلیغی لٹریچر دیا ہوگا۔یا تبلیغی گفتگو کی ہوگی یا صدر موصوف کی نظر میں دیگر اسلامی ممالک کے نمائندگان میں سے چوہدری صاحب ہی اس بات کے اہل تھے کہ آپ سے اسلامی قوانین طلب کئے جائیں۔( الفضل ۱۷/۲/۵۱ ص۱)