اصحاب احمد (جلد 11) — Page 267
267 (۸) آپ نے متحدہ ہند کی پارلیمنٹ میں نہایت دانشمندی اور خلوص سے جنگ عظیم دوم کے تعلق میں ملک کو دنیوی رنگ میں صحیح مشورہ دیا بلکہ روحانی رنگ میں بھی صحیح رہنمائی کی۔۱۹۴۰ء میں آپ وزیر قانون تھے۔اس وقت مرکزی اسمبلی میں دوسرے فنانس بل کے مباحثہ میں آپ نے جو تقریر فرمائی۔اس پر آپ کو بے حد خراج تحسین ادا کیا گیا۔آپ نے بتایا کہ متضاد دلائل کے باوجود تمام اس امر پر متفق ہیں۔اول ہر قوم کو دوسروں کے ناجائز تسلط سے آزادی حاصل ہو۔دوم بین الاقوامی ذمہ واریوں کا احترام کیا جائے۔سوم سب سے زیادہ پسندیدہ نظام حکومت جمہوری ہے۔چوتھے انصاف ہو۔قانون کی حکومت ہو اور قانون کی نظر میں تمام شہریوں کی حیثیت مساوی ہو۔اور خاندان ذات پات اور رنگ ونسل کی بناء پر لوگوں کے ساتھ مراعات نہ ہوں۔پانچویں کمزور کی امداد کی جائے۔چھٹے حکومتوں کے وفاق کا نصب العین ہو جس میں تمام حکومتیں مساوات کی بنیاد پر اشتراک عمل کریں اور بین الاقوامی مناقشات کو نپٹا ئیں اور سائینس کے وسائل کو جو اس وقت نسل انسانی کی تباہی کے لئے وقف ہیں۔انسانی بہبود کے لئے ترقی دی جائے۔اگر ہم سب ان امور پر متفق ہیں تو ہمیں یہ اقرار کرنا چاہیئے کہ اس جنگ میں ہماری پوری پوری ہمدردیاں جمہوریتوں کے ساتھ ہیں۔ستیہ مورتی صاحب نے کہا کہ اقرار کیوں؟ چوہدری صاحب نے کہا ، اس لئے بعض حلقوں کو اس کا اقرار کرنے میں تامل ہے۔آمریت پسند حکومتوں کی کامیابی اور جمہوریتوں کی شکست کی صورت میں ہمارے تمام اعلیٰ اور پاکیزہ نصب العین تباہ ہو جائیں گے۔گاندھی جی کہہ چکے ہیں۔ہٹلر غالبا خدا کو نہیں مانتا۔اور میرے نزدیک وہ جنگ کا ذمہ دار ہے۔(مسٹر ستیہ مورتی نے کہا نہیں نہیں۔اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ یہ میرے الفاظ نہیں ، گاندھی جی کے ہیں۔مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ کانگرسی حلقوں میں گاندھی سے اختلاف اس حد تک بڑھ گیا ہے ) گاندھی جی نے کہا کہ ہٹلریت کا مطلب عریاں اور بیدر دانہ تشد د ہے۔میری تمام تر ہمدردیاں اتحادیوں کے ساتھ ہیں۔اگر اتحادیوں کو شکست ہوئی تو ہندوستان میں افرا تفری اور بدامنی پیدا ہو جائے گی۔جس سے طویل مدت تک نجات حاصل نہ ہو سکے گی۔راجگو پال آچار یہ جی کہتے ہیں کہ ہٹلریت کا استیصال ضروری ہے اور ہمیں اتحادیوں کی فتح کے لئے دعا کرنی چاہیئے۔کے۔ایم منشی صاحب کی رائے ہے کہ ہٹلر کی جنگ چھوٹی اور بے یارو مددگار قوموں کے خلاف ہے۔یہ نسلی تعصب اور تشدد کی جنگ