اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 259 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 259

259 (۴) جنوری ۱۹۴۸ء میں برما کے جشن آزادی کی تقریب میں چوہدری صاحب شریک ہوئے بقیہ حاشیہ:- تحریک کشمیر کی امداد کئی پہلوؤں سے کر رہے تھے۔اور کارکنان کشمیر طبعاً ان کے ممنون تھے۔چوہدری ظفر اللہ خاں بھی یقیناً مرزا صاحب ہی کے اشارے سے مقدمے کی پیروی کے لئے گئے ہوں گے۔( ذکر اقبال صفحه ۱۸۷ و ۱۸۸) اقتباس بالا سے ذیل کے نتائج مستنبط ہوتے ہیں : (1) باوجود یہ کہ حضرت امام جماعت احمد یہ کثیر الوسائل تھے۔اور آپ اور آپ کے مرید ہی حقیقی کا رکن کشمیر کمیٹی تھے۔جب یہ امر ظاہر و باہر تھا کہ یہ کام آپ سے الگ ہو کر چل ہی نہیں سکے گا۔علامہ کے پاس نہ مسلمانوں کے پاس ویسے وسائل اور کا رکن تھے تو ایسے حالات کیوں پیدا کئے گئے کہ وہ استعفاء دے دیں خواہ یہ کام ٹھپ ہو جائے۔دراصل منشاء ہی یہ تھا کہ سارا کام آپ اور آپ کے مرید کر رہے ہیں یہ نیک نامی ان کو کیوں ملے اسے روک دیا جائے۔یہ مقصود ہر گز نہ تھا کہ یہ کام جاری رہ سکے۔اس طرح علامہ اقبال نے مخالفت کر کے صدارت حاصل کر لی لیکن کام کس طرح چلتا۔اس لئے مجبور ہو کر نہ صرف صدارت سے استعفی دیا بلکہ کشمیر کمیٹی کو ہی سرے سے ختم کر کے چین لیا۔اس کی تہہ میں علامہ کی مخالفت کا رفرما تھی تبھی اس کا اس وقت شدت سے اظہار ہوا۔جب معلوم ہوا کہ چوہدری صاحب ایک مقدمہ کی پیروی کریں گے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ باوجود استعفاء کے حضرت امام جماعت احمد یہ اہالیان کشمیر کے سو دو بہبود میں امدا واعانت سے دستکش نہیں ہوئے۔کیونکہ وہ اعزاز کے بھوکے نہیں تھے۔کام کے دھنی تھے اور تقسیم ملک تک بیوگان و یتامی اور غریب طلباء کی امداد انہوں نے جاری رکھی اور ایک ہفتہ وار اخبار بھی۔علامہ اور آپ کے ساتھی ایسے کام بھلا کیسے کر سکتے تھے۔وہ تو صرف اس بات پر جز بز ہورہے تھے کہ اہالیانِ کشمیر جماعت احمدیہ کے امام سے استمداد کے لئے میل جول کیوں رکھتے ہیں۔(۲) حضرت امام جماعت احمدیہ نے استعفاء کے بعد بھی کسی نمود کی خواہش کے بغیر خدمت جاری رکھی۔حالانکہ علامہ چاہتے تھے کہ خود تو وہ کام نہیں کر سکتے لیکن دوسرے بھی کام نہ کریں۔(۳) یہ امر بظاہر درست نہیں معلوم ہوتا کہ تجویز دستور پر استعفاء حضرت مرزا صاحب نے دیا ہوگا۔کیونکہ کشمیر کمیٹی نے ان کو سارے اختیارات دئے تھے تب بھی وہ کمیٹی سے بار بار مشورے لیتے تھے۔حالانکہ وسائل خود حضرت مرزا صاحب کے تھے اور کارکن بھی۔مطلب یہ تھا کہ آپ مسلمان