اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 258 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 258

258 رنگ میں کیا۔(الفضل ۴/۴۷ / ۷ صفحه ۸ و ۲۷/۵/۴۷ ص ۴ ک ۴) بقیہ حاشیہ: - تاکہ دوسرے مسلمان یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کو کام کا موقعہ نہیں دیا گیا۔لیکن نتیجہ کیا نکلا۔ڈھاک کے وہی تین پات۔ذکر اقبال میں مرقوم ہے: مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی صدارت میں ایک کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔اس کمیٹی کا مقصد یہ تھا کہ آئینی ذرائع سے مسلمانان کشمیر کو ان کے حقوق دلوائے جائیں کشمیر کمیٹی اب تک کسی دستوری تدوین کے بغیر ہی کام کر رہی تھی۔اور صدر یعنی مرزا صاحب کو غیر محدود اختیارات دئے گئے تھے۔لیکن جب تحریک کشمیر نے طول کھینچا تو خیال پیدا ہوا کہ کشمیر کمیٹی کا ایک باضابطہ دستور تیار کیا جائے۔اس پر احمدیوں نے مخالفت کی ، کیونکہ وہ اس ترتیب دستور کو شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس سے ہم کو اور ہمارے امام کو بے دخل کرنا مقصود ہے۔اختلاف پیدا ہوا۔مرزا بشیر الدین محمود احمد نے صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور علامہ اقبال ان کی جگہ عارضی طور پر صدر منتخب ہوئے۔لیکن مرزا صاحب کے علیحدہ ہو جانے سے ان کے احباب و مریدین نے جو کمیٹی کے اصلی کا رکن تھے۔کشمیر کمیٹی کے کام میں دلچسپی لینا ترک کر دیا اور یہاں اور کوئی کارکن تھے ہی نہیں۔لہذا علامہ نے بھی کمیٹی کی صدارت سے استعفا دے دیا اور کمیٹی ہی کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔“ ( ص ۱۷۳و۱۷۴) علامہ کشمیر کا ایک مقدمہ کسی وکیل کے سپرد کرنے والے تھے۔لیکن دفعتا معلوم ہوا کہ اس کی پیروی چوہدری ظفر اللہ خاں کریں گے۔چونکہ اس وقت تک علامہ کو کشمیر کمیٹی کے سلسلے میں احمد یوں سے سوءظن پیدا ہو چکا تھا۔اس لئے لکھتے ہیں : چودھری ظفر اللہ خاں کیونکر اور کس کی دعوت پر وہاں جار ہے ہیں مجھے معلوم نہیں۔شاید کشمیر کا نفرنس کے بعض لوگ ابھی تک قادیانیوں سے خفیہ تعلقات رکھتے ہیں۔“ ( مکاتیب اقبال ۴۳۵) " حالانکہ شیخ محمد عبدالله ( شیر کشمیر ) اور دوسرے کارکنان کشمیر مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے بعض کار پردازوں کے ساتھ خفیہ نہیں بلکہ اعلامیہ روابط رکھتے ہیں۔اور ان روابط کا کوئی تعلق عقائد احمدیت سے نہ تھا بلکہ ان کی بنا محض یہ تھی کہ مرزا صاحب کثیر الوسائل ہونے کی وجہ سے