اصحاب احمد (جلد 11) — Page 260
260 اور ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری ترقی قرآن پاک کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کے بقیہ حاشیہ: عوام و خواص میں اہل کشمیر کے متعلق بیداری پیدا کرنے کے متمنی تھے۔گویا مختار مطلق تسلیم ہونے پر بھی وہ بار بار مشورے کرتے تھے۔انگریزی حکومت پر اور مہا راجہ پر بہت رعب طاری ہو چکا تھا۔اور کامیابی پر کامیابی ہونی شروع ہو چکی تھی۔اور اسی وجہ سے استعفاء کے باوجود کشمیر کے رہنما اور عوام حضرت ممدوح کی طرف رجوع کرتے تھے۔بھلا ایسے بے نفس ، بے ریا اور فعال اور ہمدرد اور کامیاب شخص کو دستور پر اعتراض ہو سکتا تھا۔(۴) حضرت مرزا صاحب تو پھر بھی تقسیم ملک تک اہالیان کشمیر کی اعانت ہر رنگ میں کرتے رہے۔سیاسی مصیبت زدگان ، بیوگان اور یتامی کی پرورش اور غریب طلباء کی تعلیم کا انتظام کیا۔وہاں سے ہفتہ وار اخبار جاری رکھا۔لیکن علامہ اقبال کا مقصود حضرت مرزا صاحب سے استعفاء دلا کر پورا ہو گیا اور وہ جلد بس ہو گئے یا بالفاظ دیگر اس کام کو اپنے بس کا نہ پا کر بے بس ہو گئے اور کشمیر کمیٹی کا وجو د ہی انہوں نے ختم کر ڈالا۔مثلاً کچھ لوگ سخت دھوپ اور ٹو کے وقت دو پہر کو پیاس سے تڑپ رہے ہوں اور جو شخص ان کے لئے آب رسانی کا انتظام کرتا ہو، اس سے جھگڑا پیدا کر کے دوسرا شخص جو اس کے ڈول اور رسی سے ان لوگوں کو محروم کر دے اور خود انتظام سنبھالے۔حالانکہ خود اس کے پاس نہ ڈول رسی ہونہ وہ مہیا کر سکے۔اور جب پہلے ہمدرد اور وسائل رکھنے والے شخص کی امداد سے وہ پیا سے محروم ہو جائیں اور زیادہ تڑپنے لگیں اور تو دوسرا ” ہمدرد شخص یہ کہہ کر کہ میں تو انتظام نہیں کرسکتا ، انتظام سے دستبردار ہو جائے ، ایسے شخص کی ہمدردی کیسی ہوگی۔اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔یہاں میں یہ ذکر بھی کر دیتا ہوں کہ علامہ نے اپنے والد ماجد اور اپنے استاد مولانا میرحسن کی زندگی میں احمدیت کی مخالفت نہیں کی۔اگر والد ماجد احمدیت سے منقطع ہونے پر جماعت احمدیہ کے مخالف ہوتے تو علامہ شادی والے معاملہ کے متعلق فتویٰ قادیان سے حاصل نہ کرتے۔نہ اپنے بڑے بیٹے کو سالہا سال تک قادیان میں تعلیم دلاتے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ والد صاحب نے جماعت سے منقطع ہو کر خاموشی اختیار کر لی ہوگی۔اسی طرح مولانا میر حسن کے متعلق میں یہ ذکر کر چکا ہوں کہ باوجود یہ کہ حضرت مرزا صاحب پر وفات عیسی کے اقرار کے باعث کفر کے فتوے لگ چکے تھے اور وفات کی مرکزی دلیل آیت متوفیک تھی۔ان حالات میں بھی وہ حضرت مرزا صاحب